سری نگر میں 2 اساتذہ کو گولی ماردی گئی

اساتذہ کی ہلاکت کی بڑے پیمانہ پر مذمت کی گئی ہے۔ ان ہلاکتوں کے ساتھ ہی گزشتہ 5 دن میں ہلاک کئے جانے والے عام شہریوں کی تعداد 7 ہوگئی ہے جن کے منجملہ 4کا تعلق اقلیتوں سے ہے۔

سری نگر: جموں وکشمیر میں عام شہریوں پر بڑھتے حملوں کے درمیان آج شہر کے عیدگاہ علاقہ میں عسکریت پسندوں نے سرکاری اسکول کے 2 اساتذہ کو گولی ماردی جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔

اساتذہ کی ہلاکت کی بڑے پیمانہ پر مذمت کی گئی ہے۔ ان ہلاکتوں کے ساتھ ہی گزشتہ 5 دن میں ہلاک کئے جانے والے عام شہریوں کی تعداد 7 ہوگئی ہے جن کے منجملہ 4کا تعلق اقلیتوں سے ہے۔

ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ تقریباً 11:15 بجے دن دہشت گردوں نے ضلع سری نگرمیں سنگم عیدگاہ کے قریب اسکول کے 2 ٹیچروں کو گولی مارکر ہلاک کردیا۔ ایک خاتون ٹیچر بھی مہلوکین میں شامل ہے۔ ان کی شناخت سپریندر کور کی حیثیت سے کی گئی ہے جو یہاں شہر کے آلوچی باغ علاقہ کی ساکن تھیں۔

دوسرے مہلوک کی شناخت دیپک چند کی حیثیت سے کی گئی ہے جو جموں کے ساکن ہیں۔ یہ دونوں سنگم کے گورنمنٹ بوائز اسکول میں بحیثیت ٹیچر کام کررہے تھے۔ تازہ ہلاکتوں کے ساتھ ہی وادی میں ہلاک کئے جانے والے عام شہریوں کی تعداد 7 ہوگئی ہے۔

عسکریت پسندوں نے ہفتہ کے دن کرن نگر کے چھت بل سری نگر علاقہ میں ایک شخص ماجد احمد گوجری کو گولی ماردی تھی۔ بعدازاں اُسی رات کو ایک اور عام شہری محمد شفیع ڈار کو گولی ماردی گئی جو بٹمالو کے ساکن تھے۔

وہ گولی لگنے سے زخمی ہوگئے تھے اور چند گھنٹوں بعد انہیں ہاسپٹل منتقل کردیا گیا تھا۔منگل کے روز 3 عام شہریوں کو گولی ماردی گئی تھی جن میں سری نگرکی مشہور فارمیسی کے مالک مکھن لال بندرو بھی شامل تھے۔ سری نگر اور ضلع باندی پورہ میں اندرون 2 گھنٹے پیش آئے علیحدہ واقعات میں 3 افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.