سید علی شاہ گیلا نی: رکن اسمبلی سے علاحدگی پسند تک کا سفر

سید علی شاہ گیلانی کے اجداد مشرق وسطیٰ سے ہجرت کرکے کشمیر میں آباد ہوئے تھے۔ گیلانی 29 ستمبر 1929 کو شمالی کشمیرکے ضلع بانڈی پورہ کے زُوری منز علاقے میں پیدا ہوئے تھے۔

رضوان شفیع وانی

وادی کشمیر کے سب سے بڑے علیحدگی پسند رہنما اورحریت کانفرنس کے سابق صدر سید علی شاہ گیلانی 92 برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد گزشتہ شب سرینگر کے حیدر پورہ علاقے میں واقع  اپنی رہائش گاہ میں انتقال کر گئے۔ سید علی شاہ گیلانی کو 2 ستمبر کو صبح 6 بجے کے قریب حیدرپورہ جامع مسجد کے احاطے میں سُپرد خاک کیا گیا۔

سید علی شاہ گیلانی کی وفات کی خبر آنے کے فوراً بعد ہی جموں و کشمیر انتظامیہ نے وادی میں ہائی الرٹ کا اعلان کر دیا تھا اور حکام نے وادی بھر میں کرفیو  جیسی  پابندیاں عائد کر دی۔

سید علی گیلانی نے وصیت کی تھی کہ انہیں سرینگر میں تاریخی جامع مسجد کے قریب خواجہ بازار میں واقع مزار شہداء میں دفن کیا جائے تاہم انتظامیہ کی جانب سے اجازت نہ ملنے پر انہیں حیدرپورہ میں سپرد خاک  کیا گیا۔

بین الاقوامی میڈیا ادارہ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے خود ان کی تدفین کردی۔

الجزیرہ کے مطابق سید علی گیلانی کے فرزند نسیم گیلانی نے کہا ‘والد کی خواہش کے مطابق سید علی گیلانی کو مزار شہداء میں دفنانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، تاہم پولیس نے ان کی میت اہل خانہ سے چھین لی اور کسی بھی فرد خاندان کو جنازے میں شرکت کی اجازت  نہیں  دی’۔

سید علی گیلانی کی وفات کی خبر پھیلنے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے سرینگر کے حساس علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ جب کہ عوامی مزاحمت یا کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کے لئے تمام راستوں کو خاردار تاروں سے بند کردیا گیا تھا۔

انتظامیہ نے امن و امان کو مد نظر رکھتے ہوئے احتیاطی طور پر وادی میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کو بند کر دیا ہے۔

سخت گیر موقف رکھنے والے سید علی گیلانی تقریباً  پچاس سال تک کشمیر کی سیاست میں سرگرم رہے۔ وہ وادی میں ہند مخالف سیاسی جماعتوں کے اتحاد آل پارٹیز حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ رہے۔

انہوں نے گزشتہ برس حریت کانفرنس سے کنارہ کشی اختیار کی تھی۔ انہوں نے ایک پیغام جاری  کرتے  ہوئے  کہا  تھا  کہ ‘حریت کانفرنس کی موجودہ صورتِ حال کو مدِ ںظر رکھتے ہوئے میں اس فورم سے مکمل علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں’۔  تاہم انہوں نے کہا  تھا کہ ’میری ‘جدوجہد آزادی’ کے ساتھ وابستگی آخری سانس تک رہے گی‘۔

سید علی گیلانی کی وفات پر مختلف حلقوں کی جانب سے گہرے غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلی  محبوبہ مفتی نے اپنے ایک  ٹویٹ پیغام میں کہا ‘ہم اگرچہ زیادہ تر چیزوں پر گیلانی صاحب  سے اتفاق نہیں کرتے تھے لیکن میں ان کی مستقل مزاجی اور اصول پسندی کے لیے ان کا احترام کرتی ہوں۔’

کون تھے سید علی شاہ گیلانی

سید علی شاہ گیلانی کے اجداد مشرق وسطیٰ سے ہجرت کرکے کشمیر میں آباد ہوئے تھے۔ گیلانی 29 ستمبر 1929 کو شمالی کشمیرکے ضلع بانڈی پورہ کے زُوری منز علاقے میں پیدا ہوئے تھے۔ تاہم 1950 میں ان  کے والدین نے زُوری منز سے ڈورو سوپور ہجرت  کی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پرائمری اسکول بوٹنگو سوپور میں حاصل کی جس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے اورینٹل کالج لاہور چلے گئے۔  انہوں نے کشمیر یونیورسٹی سے ادیب فاضل اور منشی فاضل کی ڈگریاں حاصل کیں۔

سید علی گیلانی کے خاندان میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ انہوں نے تقریباً ایک درجن کتابیں بھی تصنیف کیں ہیں جن میں علامہ اقبال کی فارسی شاعری کے ترجمے بھی شامل ہیں۔  گزشتہ برس حکومت پاکستان نے انہیں ملک کا سب سے بڑا شہری اعزاز ‘نشان پاکستان’ سے  نوازا۔

تقریباً 12 برس تک وادی کے مختلف اسکولوں میں بحیثیت استاد خدمات انجام دیتے رہے۔ سنہ 1951 میں انہوں نے سرکاری ملازمت کو خیر باد کہا اور جماعت اسلامی کے رُکن بن گئے۔

انہوں نے اپنی عمر کی تقریباً ایک دہائی جموں و کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں گزاری ہے جبکہ گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے وہ اپنے گھر میں نظربند تھے۔ سنہ 2003 میں رانچی کی ایک جیل میں انہیں گردوں کے کینسر میں مبتلا پایا گیا۔

سید علی گیلانی صرف علیحدگی پسند لیڈر نہیں تھے، وہ جموں  کشمیر میں 15 برس تک اسمبلی کے رکن  بھی رہے۔ سنہ 1972 سے 1987 تک گیلانی، جماعت اسلامی کے مینڈیٹ پر سوپور کے حلقے سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

سنہ  1989 میں جب وادیٔ کشمیر میں مسلح شورش کا آغاز ہوا، تو انہوں نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا اور اس کے بعد ہونے والے تمام انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔

سید علی گیلانی سنہ 1997 میں علیحدگی پسند پلیٹ فارم کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین  بنے۔ میرواعظ عمر فاروق کی قیادت میں بننے والے اس  فورم میں 25 سے زائد سیاسی و سماجی تنظمیں شامل تھیں، جن میں پیپلز کانفرنس کے بانی عبدالغنی لون، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے یاسین ملک اور مسلم کانفرنس کے عبدالغنی بھٹ بھی قابل  ذکر ہیں۔

سال 2003 میں اُس وقت کے صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف نے کشمیری قیادت کو مبینہ طور پر بھارت کے ساتھ مذاکرات کا گرین سگنل دیا تو سید علی گیلانی نے اس کی بھر پور مخالفت کی تھی۔

انہوں نے پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے چار نکاتی فارمولہ کو مسترد کردیا تھا۔ اس کے فوراً بعد ہی حریت کانفرنس سخت گیر اور اعتدال پسند دھڑوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔

سنہ 2003 میں گیلانی نے کل جماعتی حریت کانفرنس سے علیحدگی اختیار کرکے ‘تحریکِ حریت’ کے نام سے اپنی تنظیم قائم کی تھی۔

سید علی گیلانی نے گزشتہ تین دہائیوں سے کشمیر کی سیاست میں ایک اہم رول ادا کیا۔ بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلوط حکومت کے دوران بات چیت کے لئے ان کے گھر میں ایک پارلیمانی وفد بھی بھیجا گیا لیکن انہوں نے بات کرنے سے انکار کردیا تھا۔

گیلانی کہتے تھے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے۔

واضح رہے کہ ’حریت کانفرنس‘ کے دو دھڑے ہیں۔ ایک دھڑا جو حریت کانفرنس (گ) کہلاتا ہے اس کی باگ ڈور سید علی گیلانی کے ہاتھوں میں تھی جبکہ دوسرا دھڑا جو حریت کانفرنس (ع) کہلاتا ہے، کی قیادت میرواعظ مولوی عمر فاروق کررہے ہیں۔

(رضوان شفیع وانی کشمیر میں مقیم آزاد صحافی ہیں)۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.