غیرمقامی ورکرس، کشمیر چھوڑ کر جانے لگے

ایک مزدور نے جس نے اپنا نام بتانا نہیں چاہا، کہا کہ غیرمقامی لوگوں میں بڑا خوف ہے۔ ہمارے اہل خانہ پریشان ہیں وہ ہم سے جلد ازجلد واپس آنے کو کہہ رہے ہیں۔ مائیگرنٹ ورکرس کی ہلاکت کی خبر سننے کے بعد سے ہم بڑے خوفزدہ ہیں۔

سری نگر/ نئی دہلی: کشمیر میں غیرمقامی ورکرس پر سلسلہ وار حملوں کے بعد ان کی بڑی تعداد وادی چھوڑکر جانے لگی ہے۔ نان لوکل ورکرس کا ایک گروپ اپنی آبائی ریاستوں کو روانہ ہونے کے لئے پیر کے دن سری نگر ریلوے اسٹیشن پر اکٹھا ہوا۔

بہار کے بھاگلپور کے رہنے والے 60 سالہ دنیش منڈل نے کشمیر سے جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وہ گزشتہ 40 برس سے آئسکریم بیچنے کے لئے پابندی سے کشمیر آتا رہا ہے۔ اس نے کہا کہ صورتِ حال خراب ہے۔ غیرمقامی لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ خوانچہ فروشوں اور مزدوروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان حالات میں ہم کشمیر میں نہیں رہ سکتے۔

ایک اور آئسکریم سیلر ستیش کمار نے کہا کہ ہر کوئی ڈرا ہوا ہے۔ پہلے وینڈرس کو سڑکوں پر نشانہ بنایا جاتا تھا، اب لوگوں پر ان کے کمروں میں حملے ہورہے ہیں۔ ہم نے ہفتہ کے دن کلگام میں 2 غیرمقامی لوگوں کی ہلاکت کے بعد کشمیر چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس نے کہا کہ مقامی لوگ ہم سے یہاں رہنے کو کہہ رہے ہیں لیکن ہم کشمیرمیں کیسے رہ سکتے ہیں جبکہ ہم اپنے کمروں میں تک محفوظ نہیں۔ امن قائم ہوجائے تو ہم کشمیر واپس آنے کی سوچ سکتے ہیں۔

ایک مزدور نے جس نے اپنا نام بتانا نہیں چاہا، کہا کہ غیرمقامی لوگوں میں بڑا خوف ہے۔ ہمارے اہل خانہ پریشان ہیں وہ ہم سے جلد ازجلد واپس آنے کو کہہ رہے ہیں۔ مائیگرنٹ ورکرس کی ہلاکت کی خبر سننے کے بعد سے ہم بڑے خوفزدہ ہیں۔ ہر چند دن بعد یہاں لوگ مارے جارہے ہیں۔

مائیگرنٹ ورکرس کا کہنا ہے کہ ان کے گھر والے انہیں واپس آنے کو کہہ رہے ہیں۔ گھر جانے والے بعض ورکرس نے کہا کہ وہ حالات بہتر ہونے کے بعد ہی وادی واپسی کی سوچ سکتے ہیں۔ گزشتہ چند دن میں کشمیر میں کئی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اتوار کے دن 2 غیرمقامی افراد جنوبی کشمیر کے ضلع کلگام میں مارے گئے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.