فوجی سربراہ جنرل نروانے‘ جموں کے 2 روزہ دورہ پر

اضلاع پونچھ اور راجوری کے جنگل میں دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائی کے دوران گزشتہ 2 ہفتوں میں ان کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی چہارشنبہ کو 24ویں دن میں داخل ہوگئی۔

جموں: فوج کے سربراہ جنرل ایم ایم نروانے چہارشنبہ سے جموں کے 2 روزہ دورہ پر ہیں۔اس دورہ میں وہ سیکوریٹی صورتِ حال اور جنگی تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی۔ اضلاع پونچھ اور راجوری کے جنگل میں دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائی کے دوران گزشتہ 2 ہفتوں میں ان کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی چہارشنبہ کو 24ویں دن میں داخل ہوگئی۔

 ایڈیشنل ڈائرکٹوریٹ جنرل پبلک انفارمیشن (اے ڈی جی پی) نے ٹویٹ کرکے بتایا کہ چیف آف آرمی اسٹاف(سی او اے ایس) جنرل ایم ایم نروانے‘ جموں علاقہ کے دورہ پر ہیں جس کے دوران انہیں سیکوریٹی صورتِ حال اور جنگی تیاریوں سے واقف کرایا جائے گا۔ وہ اگلی چوکیوں پر جائیں گے اور وہاں فوجیوں اور کمانڈرس سے بات چیت کریں گے۔

قبل ازیں فوجی سربراہ نے 18 اور 19  اکتوبر کو جموں ریجن کا دورہ کیا تھا اور زمینی صورتِ حال کے علاوہ دراندازی کی روک تھام کے لئے کی جارہی کارروائی کا جائزہ لیا تھا۔ وہ اضلاع راجوری اورپونچھ بھی گئے تھے جہاں مینڈھیر‘ سورن کوٹ اور تھانہ منڈی کے جنگلاتی علاقہ میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف 11  اکتوبر سے بڑا آپریشن جاری ہے۔

 5 فوجیوں بشمول ایک جونیر کمیشنڈ آفیسر (جے سی او) کے مارے جانے کے بعد یہ آپریشن سورن کوٹ کے جنگل میں شروع ہوا تھا۔ بعد میں یہ مینڈھر تک پھیل گیا۔ پاکستانی دہشت گرد ضیاء مصطفی کو جموں کی کوٹ بلوال جیل سے پولیس ریمانڈ پر مینڈھر لایا گیا تھا تاکہ اس سے آپریشن کے سلسلہ میں پوچھ تاچھ کی جائے۔

سیکوریٹی فورسس جب اسے ایک خفیہ ٹھکانہ کی نشاندہی کے لئے اپنے ساتھ لے گئیں تو وہ وہاں چھپے دہشت گردوں کی فائرنگ کی زد میں آگیا تھا۔24  اکتوبر کو اس کی موت واقع ہوئی تھی۔ جموں علاقہ کے راجوری اور پونچھ میں جاریہ سال جون سے دراندازی کی کوششیں بڑھ گئی ہیں۔علیحدہ انکاؤنٹرس میں 9 دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔

پولیس نے مصطفی سے مبینہ روابط رکھنے والے ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے روابط سرحد پار آقاؤں سے بھی تھے۔ جنگلاتی علاقہ میں دیگر 12   افراد سے پوچھ تاچھ کی گئی کیونکہ ان کے تعلق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ انہوں نے دہشت گردوں کی لاجسٹک مدد کی تھی۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.