کشمیر میں شہری ہلاکتیں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش : دلباغ سنگھ

عام شہریوں کی ہلاکتوں کی ان کارروائیوں کو فرقہ وارنہ فساد کا رنگ دینے کے لئے انجام دیا جا رہا ہے تاکہ یہاں کے دیرینہ آپسی بھائی چارے کو ٹھیس پہنچائی جائے۔

سری نگر: جموں وکشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ کا ماننا ہے کہ وادی کشمیر میں عام شہریوں کی ہلاکتیں مقامی مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی یہ کارروائیاں فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کے لئے انجام دی جا رہی ہیں تاکہ کشمیر کی دیرینہ آپسی بھائی چارے کی روایت کو ٹھیس پہنچائی جائے۔

ان کا ساتھ ہی کہنا تھا کہ سری نگر پولیس کو پہلے ہونی والی شہری ہلاکتوں کے بارے میں کافی سراغ مل گئے ہیں اور مرتکبین کو بہت جلد بے نقاب کیا جائے گا۔ موصوف پولیس سربراہ نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کے روز بائز ہائر سکنڈری اسکول عیدگاہ کے باہر نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب دینے کے دوران کیا۔

سری نگر کے عید گاہ علاقہ میں جمعرات کی صبح نامعلوم اسلحہ برداروں نے بائز ہائر سکنڈری اسکول کے احاطہ میں پرنسپل سمیت دو اساتذہ پر فائرنگ کرکے ابدی نیند سلا دیا۔ سنگھ نے بتایا کہ پچھلےکچھ دنوں سے عام شہریوں جو عوام کی خدمت کر رہے ہیں، کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ دہشت کا ماحول قائم کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا: ’عام شہریوں کی ہلاکتوں کی ان کارروائیوں کو فرقہ وارنہ فساد کا رنگ دینے کے لئے انجام دیا جا رہا ہے تاکہ یہاں کے دیرینہ آپسی بھائی چارے کو ٹھیس پہنچائی جائے‘۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ یہ ایک سازش ہے جس کے تحت یہاں کے بھائی چارے کی روایت کو ختم کرنے اور مقامی مسلمانوں کو بد نام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘۔

ایک سوال کے جواب میں اُنہوںنے کہاکہ ’اسکول کا عملہ صدمے میں ہے اور ہم نے ان کے ساتھ بات کی‘۔ قابل ذکر ہے کہ دو اساتذہ کی ہلاکت کا یہ واقعہ معروف کمسٹ مکھن لال بندرو کی نامعلوم اسلحہ برداروں کے ہاتھوں ہلاکت کے ایک روز بعد پیش آیا ہے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.