کیا مرکزی حکومت کی نظر میں طالبان دہشت گرد ہیں؟: عمر عبداللہ

طالبان ہندوستان کے لئے دہشت گرد تنظیم نہیں ہے تو کیا ہندوستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدارتی رکن کی حیثیت سے اس کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے باہر نکلوائے گا۔۔

جموں: نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہندوستانی سفیر کی طالبان کے سیاسی امور کے سربراہ سے ملاقات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب اگر طالبان ہندوستان کے لئے دہشت گرد تنظیم نہیں ہے تو کیا ہندوستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدارتی رکن کی حیثیت سے اس کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے باہر نکلوائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر طالبان دہشت گرد تنظیم ہے تو ہندوستان کیوں ان سے بات کرتا ہے اور اگر وہ اب دہشت گرد تنظیم نہیں ہے تو اس کے بینک کھاتوں پر پابندی کیوں لگا رکھی ہے اور ان کی حکومت کو تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا ہے۔عمر عبداللہ نے یہ باتیں چہارشنبہ کو یہاں شیر کشمیر بھون میں منعقدہ نیشنل کانفرنس کے ایک اجلاس کے بعد نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہیں۔

انہوں نے کہا: ‘ہندوستان اور طالبان بات کرنے لگے ہیں۔ یہ آج کے اخبارات کی خبر ہے کہ قطر میں طرفین کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔ طالبان دہشت گرد تنظیم ہے یا نہیں۔ آپ (ہندوستانی حکومت) مہربانی کر کے ہمیں بتائیں کہ آپ طالبان کو کیسے دیکھتے ہیں؟’

انہوں نے کہا: ‘اگر طالبان دہشت گرد تنظیم نہیں ہے تو کیا آپ اقوام متحدہ میں جا کر اس کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے باہر نکلوائیں گے۔ کیوں کہ اس وقت آپ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کر رہے ہیں’۔عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت سے پوچھا کہ اگر طالبان دہشت گرد تنظیم ہے تو آپ طالبان اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کے درمیان کیسے فرق کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا: ‘اگر یہ دہشت گرد تنظیم نہیں ہے تو مہربانی کر کے اقوام متحدہ جا کر اس کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے باہر نکلوائیں تاکہ ان کے بینک کھاتے کام کر سکیں اور ان کو الگ نظر سے نہ دیکھا جائے’۔

ان کا مزید کہنا تھا: ‘مگر آپ کا مختلف دہشت گرد تنظیموں کے تئیں الگ الگ رویہ نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ دہشت گرد تنظیم ہے تو آپ کیوں ان سے بات کرتے ہیں۔ اگر وہ دہشت گرد تنظیم نہیں ہے تو آپ نے ان کے بینک کھاتوں پر پابندی کیوں لگا رکھی ہے اور ان کی حکومت کو تسلیم کیوں نہیں کرتے ہیں’۔

جب عمر عبداللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا افغانستان کی صورتحال کا جموں و کشمیر پر کوئی اثر پڑے گا تو ان کا جواب تھا: ‘جہاں تک افغانستان کی صورتحال کا سوال ہے اس سے متعلق کوئی بھی سوال آپ کو مرکزی حکومت سے کرنا چاہیے۔ میرے پاس کوئی ایسی جانکاری نہیں ہے جس کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکوں کہ ہاں جی افغانستان کے حالات کا اثر جموں و کشمیر پر پڑے گا’۔

ان کا مزید کہنا تھا: ‘افغانستان میں جو ہوا وہ ہمارے سامنے ہے۔ اس کا کوئی اثر جموں و کشمیر پر پڑے گا یا نہیں پڑے گا یہ مرکزی حکومت ہی بتا سکتی ہے’۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.