دومختلف کمپنیوں کے تیارکردہ ویکسین نہیں لی جاسکتی : مرکزی حکومت

ٹیکہ اندازی پروگرام پر عمل آوری کویقینی بنانے والے عہدیداروں پر واضح کردیا گیا کہ پہلا اور دوسرا ٹیکہ ایک ہی کمپنی کاہونا چاہئے۔ دوڈوز کے بعد کتنے عرصہ تک کورونا سے محفوظ رہا جاسکتا ہے اس پر مرکز نے کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔

حیدرآباد: مرکزی حکومت نے واضح کردیا کہ کورونا کے لئے دومختلف کمپنیوں کے تیارکردہ ٹیکہ نہیں لئے جاسکتے۔ مرکزی وزارت صحت و عائیلی بہبود کی جانب سے جاری کردہ اطلاع کے مطابق پہلا ٹیکہ جس کمپنی کا لیا گیا ہو دوسرا ٹیکہ بھی اسی کمپنی کاہونا (لینا) چاہئے۔

کورونا ٹیکہ اندازی کے متعلق عوام میں موجود خدشات کو دور کرنے کے لئے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کوون اپلیکیشن کے ذریعہ ہر شخص کوایک ہی کمپنی کا ٹیکہ دینے کانظم کیاگیا ہے۔

ٹیکہ اندازی پروگرام پر عمل آوری کویقینی بنانے والے عہدیداروں پر واضح کردیا گیا کہ پہلا اور دوسرا ٹیکہ ایک ہی کمپنی کاہونا چاہئے۔ دوڈوز کے بعد کتنے عرصہ تک کورونا سے محفوظ رہا جاسکتا ہے اس پر مرکز نے کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔

مستقبل میں دو ڈوز لینے کے بعد بوسٹر ڈوز دینے کے متعلق ابھی فیصلہ نہیں کیاگیا ہے۔ کورونا کے دوڈوز لینے کے بعد بھی فیس ماسک کااستعمال اورسماجی فاصلہ کی برقراری ضروری ہے۔

اس اقدام کے ذریعہ جہاں وائرس کے پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے وہیں اطراف واکناف موجود لوگوں کوکورونا سے محفوظ رکھنے میں مدد حاصل ہوسکے گی۔

رپورٹ کے مطابق کوروناٹیکہ لینے والوں میں اینٹی باڈیز کتنے عرصہ تک برقرار رہیں گے اس کاپتہ نہیں چلایاجاسکا ہے تاہم احتیاطی اقدامات اختیار کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں امید ظاہر کی گئی کہ ٹیکوں کے ذریعہ تمام کورونا کے تبدیل شدہ وائرس سے تحفظ حاصل ہوسکے گا۔ بتایا گیا ہے کہ کورونا سے صحت یاب افراد کو تین ماہ بعد ٹیکہ دیا جاسکتا ہے۔

ایسے افراد جو مونو کلوفل اینٹی باڈیز حاصل کئے ہوں کو تین ماہ تک ٹیکہ نہیں لینا چاہئے۔ اسی طرح پہلا ڈوز حاصل کرنے کے بعد کورونا سے متاثرہوے کی صورت میں مکمل صحت یابی سے تین ماہ تک دوسرا ڈوز نہیں لینا چاہئے۔

کوون اپلیکیشن میں سرکاری اور خانگی دواخانوں میں دستیاب مختلف ٹیکوں کی تفصیلات دستیاب ہے۔ٹیکہ لینے کے خواہشمند افراد اپنی مرضی کا ویکسین لے سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ویکسین مکمل طورپر محفوظ ہے۔تقریباً تمام ویکسین 90فیصد کار آمد پائے گئے اور شیڈول کے مطابق دوٹیکہ لینے کے بعدہی جسم میں درکاراینٹی باڈیزتیار ہوں گے۔

اس کے علاوہ ٹیکہ کے استعمال سے خواتین میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر نہیں ہوگی۔اس ضمن میں خواتین کوخدشات کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

ذریعہ
منصف نیوزبیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.