‘‘اخوان المسلمین کی ہندوستان مخالف مہم’’

سلطنت عثمانیہ پھر سے وجود میں آرہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ معاشی بائیکاٹ کے لئے صرف ہندوستان کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ فرانس کے خلاف بھی مہم چلائی گئی۔ یہ محض جیو اسٹراٹیجک مہم نہیں ہے بلکہ اس کے پس پردہ ٹھوس معاشی منطق ہے۔

نئی دہلی: اخوان المسلمین کی سرپرستی میں قطر۔ ترکی۔ پاکستان (کیو ٹی پی آئی) گٹھ جوڑ‘ کٹر اسلام پسندوں کا نیا مرکز بنتا جارہا ہے۔ ڈِس انفولیاب کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اخوان نے فیک نیوز اور 2 میڈیا ہتھیاروں الجزیرہ اور ٹی آر ٹی ورلڈ کے ساتھ ہندوستان کے خلاف مہم شروع کی ہے جس میں نئی دہلی کے معاشی مفادات کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ٹویٹر پر بائیکاٹ انڈین پراڈکٹس ہیاش ٹیاگ چند دن قبل شروع ہوا اور جاری ہے۔ اس گٹھ جوڑ نے اسے ایسا رنگ دینے کی کوشش کی ہے کہ آسام کے بدبختانہ واقعہ کے نتیجہ میں اسے شروع کیا گیا ہے۔ آسام واقعہ قابل مذمت ہے اور خاطیوں کو سزا ملنی چاہئے۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ ایسا ٹرینڈ شروع کیا گیا۔ 2018میں اس کی شروعات ہوئی تھی۔

اس کے بعد سے اسے ہر سال چلایا جارہا ہے۔ ان ہینڈلس میں زیادہ تر کو پاکستان اور ترکی  سے چلایا جارہا ہے جبکہ ایسا لگتا ہے کہ ٹرینڈ کی شروعات مصر سے ہوئی ہے۔ اِس بار نیا یہ ہے کہ کئی نیوز آرٹیکلس میں بھی اس ٹرینڈ کو بڑھادیا گیا۔ نشانہ ہندوستان دکھائی دیتا ہے لیکن اصل نشانہ سعودی عرب ہے۔

 مہم میں لازمی طورپر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات(یو اے ای) خاص طورپر پرنس محمد بن سلمان کو ہندوستان سے اچھے تعلقات رکھنے کے لئے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کیو ٹی پی آئی گٹھ جوڑ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنارہا ہے۔ وہ ان کے قائد اسلامی دنیا ہونے کے ”حق“ پر سوال اٹھارہا ہے۔ مقصد واضح ہے کہ پرنس محمد بن سلمان کی نفی کرکے ترکی کے نئے ”پرنس“ صدر رجب طیب اردغان کے سر پر امت مسلمہ کے بجا قائد ہونے کا تاج رکھا جائے۔ ارطغرل غازی اسی کا پیش خیمہ تھا۔

 سلطنت عثمانیہ پھر سے وجود میں آرہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ معاشی بائیکاٹ کے لئے صرف ہندوستان کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ فرانس کے خلاف بھی مہم چلائی گئی۔ یہ محض جیو اسٹراٹیجک مہم نہیں ہے بلکہ اس کے پس پردہ ٹھوس معاشی منطق ہے۔ ترکی ہر سال ہلال نمائش منعقد کرتا ہے۔

 یہ گٹھ جوڑ جو معاشی طاقت بنائے گا‘ وہ نہ صرف مسلم دنیا پر اثرانداز ہوگی بلکہ ساری دنیا پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ ہلال اشیاء کی بہت بڑی مارکٹ ہے۔ اخوان المسلمین کی بقاء کے لئے قطر کا پٹرو ڈالر (گیس ڈالر) طویل عرصہ تک برقرار رہنے والا نہیں۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.