افغانستان میں طالبان کا اقتدار حاصل کرنا مثبت پیشرفت: مولانا ارشد مدنی

مولانا ارشد مدنی نے عورتوں مردوں کے آزادانہ اختلاط کو روکنے کی طالبان کی کوششوں کی حمایت کی۔ مولانا نے کہا کہ طالبان چاہتے ہیں کہ حجاب پر عمل ہو جو اسلامی ضرورت ہے۔ اللہ نے خواتین کا جسم‘ مردوں سے مختلف بنایا ہے۔

نئی دہلی: مولانا سید ارشد مدنی نے کہا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں لڑکے لڑکیوں کو الگ بٹھانے کی طالبان کی مہم کی تائید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں افغانستان میں طالبان کا اقتدار حاصل کرنا‘ مثبت پیشرفت ہے کیونکہ اسلامی تحریک نے ملک کو بیرونی قبضہ سے آزاد کرالیا۔ آر ایف ای/ آر ایل نے یہ اطلاع دی۔

 انہوں نے عورتوں مردوں کے آزادانہ اختلاط کو روکنے کی طالبان کی کوششوں کی حمایت کی۔ مولانا نے کہا کہ طالبان چاہتے ہیں کہ حجاب پر عمل ہو جو اسلامی ضرورت ہے۔ اللہ نے خواتین کا جسم‘ مردوں سے مختلف بنایا ہے۔ عورتوں کو ایسا لباس پہننا ہوگا جس سے فتنہ پیدا نہ ہو۔

مولانا ارشد مدنی نے زوردے کر کہا کہ دارالعلوم دیوبند کا طالبان سے فی الحال کوئی تعلق نہیں کیونکہ کسی بھی طالبان رہنما نے اس مدرسہ میں تعلیم حاصل نہیں کی تاہم طالبان کے‘ دیوبندی تحریک سے کچھ تاریخی روابط رہے ہیں۔ موجودہ پاکستان اور افغانستان میں اسلام پسندوں میں کئی دیوبندی ہیں۔ مولانا ارشد مدنی نے ہندوستان کی مثال دی جہاں کئی یونیورسٹیاں اور ہزاروں کالجس صرف لڑکیوں / خواتین کے لئے مخصوص ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں ہوسکتا ہے تو پھر افغانستان حکومت ایسا کرے تو اس میں کیا برائی ہے؟۔ افغان حکومت‘ لڑکے لڑکیوں کے لئے علیحدہ تعلیم کا نظم کررہی ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ لڑکیوں کے لئے تعلیم کے دروازے کھل گئے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.