افغان سرزمین کا استعمال دہشت گردی کیلئے نہ ہو:مشیران قومی سلامتی

ہندوستان‘ روس‘ ایران اور 5 وسط ایشیائی جمہوریاؤں نے چہارشنبہ کے دن عہد کیا کہ وہ یہ یقینی بنانے کے لئے کام کریں گے کہ افغانستان ”عالمی دہشت گردی کے لئے محفوظ پناہ گاہ“ نہ بنے۔

نئی دہلی: ہندوستان‘ روس‘ ایران اور 5  وسط ایشیائی ممالک کے سیکوریٹی سربراہوں نے چہارشنبہ کے دن مشترکہ بیان میں تمام دہشت گرد سرگرمیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے پھر سے عہد کیا کہ دہشت گردی کی تمام اشکال سے نمٹا جائے گا۔ دہشت گرد انفرااسٹرکچر کو منہدم کردیا جائے گا اور مذہبی کٹرپن کا توڑ کیا جائے گا تاکہ افغانستان پھر کبھی عالمی دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہ نہ بنے۔ 8 ممالک کے سیکوریٹی سربراہوں کی بات چیت کے بعد جاری دہلی اعلامیہ میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ افغانستان میں سبھی کو ساتھ لے کر چلنے والی حکومت بنے جس میں عوام کے سبھی طبقات کی نمائندگی ہو۔

 دہلی ریجنل سیکوریٹی ڈائیلاگ آن افغانستان کی میزبانی ہندوستان نے کی۔ ہندوستان کے مشیر قومی سلامتی اجیت دوول نے صدارت کی۔ شرکاء نے افغانستان کی ابھرتی صورتِ حال خاص طورپر سیکوریٹی صورتِ حال اور اس کے علاقائی و عالمی مضمرات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے افغانستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال پر خصوصی توجہ دی۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پرامن‘ محفوظ اور مستحکم افغانستان کے لئے پوری مدد کی جائے گی۔ انہوں نے قندوز‘ قندھار اور کابل میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کی جہاں حالیہ ہفتوں میں اسلامک اسٹیٹ خراسان نے شیعوں کو نشانہ بنایا ہے۔

مشیران قومی سلامتی کانفرنس کے شرکاء نے زور دیا کہ افغانستان کی سرزمین کا استعمال دہشت گردوں کو پناہ‘ تربیت دینے یا مالیہ کی فراہمی کے لئے نہیں ہونا چاہئے۔ آج کی میٹنگ میں حصہ لینے والوں میں ریئر اڈمیرل علی شام خوانی (سکریٹری سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل ایران)‘ کریم مسیحموف (صدرنشین نیشنل سیکوریٹی کمیٹی قازقستان)‘ مراد مکانووچ ایمان خلوف (سکریٹری سیکوریٹی کونسل جمہوریہ کرغزستان)‘ نکولوئی پی پتروشیف(سکریٹری سیکوریٹی کونسل روس)‘ نصراللہ رحمت جان محمود زادہ (سکریٹری سیکوریٹی کونسل تاجکستان)‘ سی کے امانوف (نائب صدرنشین وزرا کابینہ ترکمنستان) اور وکٹر مخمودوف (سکریٹری سیکوریٹی کونسل ازبکستان) شامل ہیں۔

پی ٹی آئی کے بموجب ہندوستان‘ روس‘ ایران اور 5  وسط ایشیائی جمہوریاؤں نے چہارشنبہ کے دن عہد کیا کہ وہ یہ یقینی بنانے کے لئے کام کریں گے کہ افغانستان ”عالمی دہشت گردی کے لئے محفوظ پناہ گاہ“ نہ بنے۔ انہوں نے کابل میں سب کو ساتھ لے کر چلنے والی صاف شفاف حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔ ہندوستان کی میزبانی میں منعقدہ مشیران قومی سلامتی کے اجلاس کے اختتام پر اِن 8 ممالک نے ایک اعلامیہ جاری کیا اور پھر سے عہد کیا کہ افغانستان کی سرزمین کا استعمال دہشت گرد سرگرمیوں کے تعاون کے لئے نہ ہونے دیا جائے گا۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.