اقلیتوں کو ووٹ بینک کیلئے استعمال کرنے کا الزام : نقوی

انہوں نے کہا کہ آزادی کے 75 سالوں میں اقلیتی ووٹوں کے ’سیاسی سوداگروں‘ نے اقلیتوں کے استحصال کی”75 شطرنج کی چالیں“چلی ہیں۔

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ سیکولرازم کو”سیاسی سہولت کا ذریعہ“بنانے والی سیاست نے سیکولرازم کی بنیادی آئینی روح کے ساتھ”سیاسی دھوکہ“ کیاہے۔

نقوی آج یہاں بی جے پی اقلیتی مورچہ کی قومی ایگزیکٹیو میٹنگ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے لئے سیکولرازم آئینی وابستگی ہے جبکہ’سیڈو سیکولر سیاسی سنڈیکیٹ‘ کے لیے یہ’سیاسی سہولت کا ذریعہ‘ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزادی کے 75 سالوں میں اقلیتی ووٹوں کے ’سیاسی سوداگروں‘ نے اقلیتوں کے استحصال کی”75 شطرنج کی چالیں“چلی ہیں۔

کبھی خوف کی چال‘ کبھی وہم کی ڈھال‘کبھی مذہب کا جال اور کبھی افواہوں اور اندیشوں کے ہنگامہ سے ووٹوں کااغواکرتے رہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کیلئے’سب کا ساتھ سب کا وکاس- سب کا وشواس-سب کا پریاس‘ جامع عزم اور آئینی وابستگی ہے۔

مودی حکومت سماج کے تمام طبقات کے لیے’عزت کے ساتھ بااختیار بنانے‘کے راستے پر مضبوطی اور خلوص کے ساتھ چل رہی ہے۔نقوی نے کہا کہ کچھ ’سیکولرازم کے سیاسی لیڈروں‘نے’کمیونل ٹفن‘ میں ’پاکھنڈی فارمولے‘سے اقلیتوں کا بے شرمی اور بے دردی کے ساتھ سیاسی استحصال کرکے‘ ان کے بنیادی معاشی، سماجی-تعلیمی سروکار کو نظر انداز کیا۔

ملک میں زیادہ تر وقت تک اقتدار کے مزے لینے والی سیاسی جماعتوں نے’خوف اور وہم کا بھوت‘ کھڑاکرکے’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘کا راستہ اختیار کیا۔نقوی نے کہا کہ اقلیتی سماج کو ایسے ’سیاسی سوداگروں‘سے ہوشیار رہنا ہوگا جو سیکولرازم کی آڑ میں ووٹوں کو ہائی جیک کرنے کے کھیل’ میں مصروف ہیں۔

لیکن اب اقلیتی معاشرہ ایسے ‘ووٹ کے سوداگروں کے ‘سیاسی استحصال’ کے ذریعے ‘ووٹوں کے ہائی جیکنگ کی چال کو سمجھ چکا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور بی جے پی کی پالیسیوں کے ساتھ کھڑا ہورہاہے۔ ہمارے لیے’ترقی کا مسودہ‘’ووٹ کا سودا‘نہ تھا نہ ہی ہوگا۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.