اقوام متحدہ سیشن سے طالبان کا خطاب خارج ازامکان

متقی نے اپنے مکتوب میں کہا کہ سابق افغان صدر اشرف غنی کو 15 اگست کو اقتدار سے بے داخل کردیا گیا ہے لہٰذا اُن کے نمائندے اب افغانستان کی نمائندگی نہیں کرتے۔ بہرحال طالبان کو 27 ستمبر کو موقع دیئے جانے کا امکان نہیں ہے۔

نئی دہلی: اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے جاریہ سیشن میں افغانستان کے نئے طالبان حکمرانوں کا خطاب یا ملک کی نمائندگی کی توقع نہیں ہے۔ اخبار ڈان نے یہ اطلاع دی۔ سابق افغان حکومت کے نمائندے ہنوز اقوام متحدہ میں افغان مشن پر قابض ہیں۔ منگل کے روز انہوں نے سیشن میں شرکت کی تھی جس سے امریکی صدر جو بائیڈن نے خطاب کیا تھا۔

اخبار ڈان کی اطلاع میں کہا گیا کہ ایک سفارتی ذریعہ کے مطابق وہ لوگ اُس وقت تک مشن پر قابض رہیں گے جب تک کہ کاغذات نمائندگی سے متعلق کمیٹی کوئی فیصلہ نہیں لیتی۔ 15  ستمبر کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گٹیرس کو افغانستان کے موجودہ طورپر مصدقہ سفیر غلام اسحاق زئی سے ایک مکتوب موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اور ان کی ٹیم اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں افغانستان کی نمائندگی کرتی رہے گی۔

 20 ستمبر کو طالبان کے زیر کنٹرول افغان وزارت خارجہ نے بھی گٹیرس کو ایک مکتوب روانہ کیا اور اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں حصہ لینے کی اجازت دینے کی درخواست کی۔ طالبان قائد امیر خان متقی نے اس مکتوب پر نئے افغان وزیر خارجہ کی حیثیت سے دستخط  کئے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے دونوں مکتوب موصول ہونے کی توثیق کی۔

متقی نے اپنے مکتوب میں کہا کہ سابق افغان صدر اشرف غنی کو 15  اگست کو اقتدار سے بے داخل کردیا گیا ہے لہٰذا اُن کے نمائندے اب افغانستان کی نمائندگی نہیں کرتے۔ بہرحال طالبان کو 27  ستمبر کو موقع دیئے جانے کا امکان نہیں ہے۔ اسی تاریخ کو افغانستان کا جنرل اسمبلی سے خطاب مقرر ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.