اگر ساورکر کی بات سنی ہوتی توبٹوارہ نہیں ہوتا : موہن بھاگوت

امبیڈکرانٹرنیشنل فاؤنڈیشن میں معروف صحافی ادھے مہورکر اور پروفیسر چیرایو پنڈت کی جانب سے مشترکہ طور پر ویر ساورکر پرلکھی گئی کتاب کی رسم اجرائی کے موقع پران باتوں کا اظہار کیا ۔ پروگرام کی صدارت وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کی ۔

نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے آج انقلابی اورمجاہد آزادی ونایک دامودر ساور کے سلسلہ میں تاریخ میں نظریاتی امتیاز کیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگراس وقت ساورکرکی بات سنی ہوتی تو شاید ہندوستان کا بٹوارہ نہیں ہوتا۔ بھاگوت نے یہاں امبیڈکرانٹرنیشنل فاؤنڈیشن میں معروف صحافی ادھے مہورکر اور پروفیسر چیرایو پنڈت کی جانب سے مشترکہ طور پر ویر ساورکر پرلکھی گئی کتاب کی رسم اجرائی کے موقع پران باتوں کا اظہار کیا ۔ پروگرام کی صدارت وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کی ۔

بھاگوت نے اپنے خطاب میں کہا کہ ساورکر نے ہندوستان کی قومیت کا سب سے پہلا اعلان کیا تھا۔ ان کی قوم پرستی پوری دنیا کے اتحاد اور انسانیت پرمرکوزتھی ۔ انہوں نے ہمیشہ سرسید احمد خان کے کرداراور مسلم لیگ کے کردار پرتبادلہ خیال کیا اور کہا ’’ جو ہندوستان کا ہے ، اس کی سلامتی ، وقار ہندوستان سے وابستہ ہے ۔ تقسیم کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان میں گئے مسلمانوں کا وقار پاکستان میں بھی نہیں ہے ۔ جو ہندوستان کا ہے ، وہ ہندوستان کا ہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1857 کی پہلی جنگ آزادی کے بارے میں ساورکر نے لکھا تھا کہ ہندو بادشاہوں کے بھگوا جھنڈے اور چاند تارے والے سبز جھنڈے دونوں نے انگریزوں کا مقابلہ کیا ۔ لیکن بعد میں تحریک خلافت کے بعد وہابی نظریات سے ماحول بگڑ گیا اور کئی طرح کی تقسیمیں پیدا ہوئیں ۔ جب ہنگامہ ہوا کہ ہم ایک نہیں بلکہ دو قومیں ہیں ، تولوگوں نے غنڈہ گردی کا سہارا لیا۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی اتنے برسوں کے بعد ہم حالات کا جائزہ لیتے ہیں ، تو لگتا ہے کہ سب کو یکساں حقوق اور کسی کا استحصال نہیں ، کی ساورکر کی آوازکو زور سے بولتے تو بٹوارہ نہیں ہوتا ۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.