ایڈوکیٹ سوربھ کِرپال بن سکتے ہیں پہلے ہم جنس پرست جج

چیف جسٹس این وی رمن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی کالیجیم نے انھیں جج بنانے کی سفارش کی ہے۔ قبل ازیں عدالت عظمیٰ کے ان کالیجیم نے چار بار ان کا نام تجویز کیا تھا۔ ان کا نام پہلی بار 2017 میں تجویز کیا گیا تھا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ کالیجیم نے ایک بار پھر متفقہ طور پر سینئر ایڈوکیٹ سوربھ کرپال کو دہلی ہائی کورٹ کا جج مقرر کرنے کی سفارش کی ہے۔ وہ ہم جنس پرست ہیں اور اگر حکومت کالیجیم کی سفارش کو قبول کرتی ہے تو یہ ہائی کورٹ میں اس طرح کی پہلی تقرری ہوگی۔

چیف جسٹس این وی رمن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی کالیجیم نے انھیں جج بنانے کی سفارش کی ہے۔ قبل ازیں عدالت عظمیٰ کے ان کالیجیم نے چار بار ان کا نام تجویز کیا تھا۔ ان کا نام پہلی بار 2017 میں تجویز کیا گیا تھا۔ دہلی یونیورسٹی کے مشہور سینٹ اسٹیفن کالج، آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی سے قانون کی پڑھائی کرنے والے کرپال 20 سال سے زیادہ کی عرصے سے وکالت کر رہے ہیں۔ا سٹیفنز کالج سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد، انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے بیچلر آف لاء (ایل ایل بی) اور کیمبرج یونیورسٹی سے قانون میں ماسٹر (ایل ایل ایم) کیا۔

 وہ اس کیس میں دو درخواست گذاروں کے وکیل تھے جس میں سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو جرم قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ کالیجیم نے پہلی بار 2017 میں اپنی طرف سے مسٹر کرپال کو دہلی ہائی کورٹ کا جج بنانے کی سفارش کی تھی۔ ان کے نام کی سفارش سب سے پہلے دہلی ہائی کورٹ کی قائم مقام چیف جسٹس گیتا متل نے کی تھی۔

امسال مارچ میں سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس بوبڈے نے مرکزی حکومت سے معلومات مانگی تھی۔ انہوں نے وزارت قانون کو خط لکھ کر کرپال کو جج نہ بنانے کے بارے میں واضح معلومات دینے کو کہا تھا۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.