بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر حملہ سے سی اے اے کی اہمیت اجاگر : بی جے پی

چیف منسٹر ممتابنرجی کو بھی یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے سی اے اے کی مخالفت کی اور اب ریاست میں ہندو پریشان ہیں تو خاموش ہوگئیں ہیں۔

نئی دہلی: بی جے پی قائدین نے آج الزام عائد کیا کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی مذہبی آزادی کو مسخ کیا جارہا ہے اور کہا کہ اس سے شہریت ترمیمی قانون کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

بی جے پی لیڈر امیت مالویا نے جو مغربی بنگال کے لئے پارٹی کے معاون انچارج ہیں۔ چیف منسٹر ممتابنرجی کو بھی یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے سی اے اے کی مخالفت کی اور اب ریاست میں ہندو پریشان ہیں تو خاموش ہوگئیں ہیں۔

مغربی بنگال میں بی جے پی لیڈر سویندھوادھیکاری نے بھی یہ معاملہ اٹھایا اوروزیراعظم نریندرمودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور دیگر قائدین کو انہوں نے اس معاملہ میں ایک مکتوب روانہ کیا اور اپیل کی کہ اس تکلیف دہ اور شرمناک مسئلہ کو جمہوری طریقہ سے بنگلہ دیشی حکام کے ساتھ اٹھائیں۔

اس دوران وشواہندوپریشد نے درگاپوجا کے دوران بنگلہ دیش میں حملوں کے واقعات کی مذمت کی اور خاطیوں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا نیز پڑوسی ملک میں ہندوؤں کے تحفظ پر زور دیا۔

وی ایچ پی کے جنرل سکریٹری ملندپانڈے نے ایک بیان میں بنگلہ دیشی حکومت سے اپیل کی کہ وہ متاثرین کے جانی و مالی نقصان کی پابجائی کریں اور ہندو اقلیتوں کے تحفظ و سلامتی کو یقینی بنائیں اور ملک میں شدت پسند عناصر کا خاتمہ کریں۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.