بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی سے متعلق بامبے ہائی کورٹ کا متنازعہ فیصلہ کالعدم

عدالت نے نشاندہی کی کہ پاکسو ایکٹ کا مقصد بچوں کو حرمت ریزی سے بچانا ہے اور کہا کہ پاکسو کے تحت شہوانی ارادہ کے ساتھ جسم کو چھونا آتا ہے اورجماع ضروری نہیں ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آج بامبے ہائی کورٹ کے متنازعہ فیصلہ کو کالعدم قرار دے دیا جس میں یہ مانا گیا تھا کہ جنسی زیادتی سے بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون (POCSO Act) کے تحت جرم کے سرزد ہونے کے لئے جماع ضروری ہے۔

عدالت عظمیٰ نے رولنگ دی کہ مذکورہ قانون کے تحت ارتکاب جرم کو تسلیم کرنے کے لئے جماع کی شرط ضروری نہیں ہے۔ اسے قانون کی محدود تشریح قرار دیتے ہوئے عدالت نے بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کوکالعدم قرار دے دیا جس میں ایک مرد کو یہ کہتے ہوئے بری کردیاگیا کہ جماع کئے بغیر ایک نابالغ لڑکی کے پستان چھونے کو پاکسو ایکٹ کے تحت جنسی زیادتی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

جسٹس ادے اومیش للت، جسٹس ایس رویندرا بھٹ اور جسٹس بیلا ایم تریویدی نے اٹارنی جنرل آف انڈیا، نیشنل کمیشن فار ویمن، حکومت مہاراشٹرا اوریوتھ بار اسوسی ایشن آف انڈیا کی دائر کردہ اپیلوں پر ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپنا فیصلہ دیا۔

عدالت نے نشاندہی کی کہ پاکسو ایکٹ کا مقصد بچوں کو حرمت ریزی سے بچانا ہے اور کہا کہ پاکسو کے تحت شہوانی ارادہ کے ساتھ جسم کو چھونا آتا ہے اورجماع ضروری نہیں ہے۔

جسٹس بیلا تریویدی جنہوں نے فیصلہ کا کارگر حصہ پڑھ کر سنایا، جو بیان کرتا ہے کہ پاکسو کی دفعہ 7 کے تحت ’چھونا‘ یا ’جسمانی لمس‘ کی ممانعت بعیدالقیاس ہے اور ارتکاب جرم کے لئے اس کو لازم قرار دینا مقصد قانون کو تلف کردیتا ہے۔پاکسو کی دفعہ 7 کے تحت ’چھونے‘ یا ’جسمانی لمس‘ کے اظہار کے معنی کو جماع تک محدود کرنا تنگ نظری اور ظاہری تشریح ہے۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.