جامعہ کی وائس چانسلر نجمہ اختر کے تقرر کو چیلنج، درخواست خارج

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی فیکلٹی آف لاء کے سابق طالب علم ایم احتشام الحق کی دائر کردہ اپیل میں نجمہ اختر کے تقرر کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ اس تقرر سے یو جی سی اور جے ایم آئی ایکٹ کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے پیر کے دن ایک درخواست خارج کردی جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ(جے ایم آئی) کی موجودہ وائس چانسلر نجمہ اختر کے تقرر کو چیلنج کرتی درخواست کی سماعت اور 3 دسمبر تک یکسوئی کی گزارش کی گئی تھی۔

جسٹس راجیو شکدھر اور جسٹس تلونت سنگھ پر مشتمل بنچ نے کہا کہ یہ درخواست سماعت کے قابل نہیں۔ اپیل کی لسٹنگ جب بھی ہوگی اس وقت سماعت ہوگی۔ روزانہ کئی معاملے اس عدالت میں آتے رہتے ہیں اور سماعت ہوتی رہتی ہے۔ اس معاملہ میں کوئی خاص بات نہیں ہے۔ درخواست خارج کی جاتی ہے۔

درخواست سنگل جج کے 5 مارچ کے احکام کو چیلنج کرتی زیرالتوا اپیل کے سلسلہ میں داخل کی گئی تھی۔ سنگل جج نے جے ایم آئی کی وی سی کے تقرر کو چیلنج کرتی درخواست کو یہ کہتے ہوئے خار ج کردیا تھا کہ اس میں کوئی میرٹ نہیں۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی فیکلٹی آف لاء کے سابق طالب علم ایم احتشام الحق کی دائر کردہ اپیل میں نجمہ اختر کے تقرر کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ اس تقرر سے یو جی سی اور جے ایم آئی ایکٹ کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

وکیل آر کے سائنی نے احتشام الحق کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ اپیل کی آئندہ تاریخ سماعت پر یکسوئی کی ہدایت دی جائے۔ وائس چانسلر کی کُل میعاد 5 سال کی ہوتی ہے اور نجمہ اختر 11 اپریل 2019 سے اس عہدہ پر فائز ہیں۔ ان کی میعاد کا نصف سے زائد حصہ پورا ہوچکا ہے۔

ہائی کورٹ کی ڈیویژن بنچ نے قبل ازیں مرکز‘ سنٹرل ویجلنس کمیشن‘ جامعہ ملیہ اسلامیہ‘ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور نجمہ اختر کو نوٹسیں جاری کی تھیں۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.