جبری تبدیلی مذہب، ملزم کو ضمانت دینے سے عدالت کا انکار

جج نے کہا کہ آدھار کارڈ میں جعلسازی اور ملزم کی ایسی ہی ایک اور شادی کے الزامات کی تحقیقات ہونی باقی ہیں۔

نئی دہلی:  دہلی کی ایک عدالت نے ایک شخص کو جس پر خود کو ہندوظاہر کرتے ہوئے شادی کرنے اور بیوی کو مسلمان بنانے کا الزام ہے‘ ضمانت دینے سے انکار کردیا۔

میٹروپولیٹن مجسٹریٹ جتیندر پرتاپ سنگھ نے کہا کہ اس پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ شکایت کنندہ نے ملزم سے مندر میں شادی کی اور پھر اپنے بچہ کے مستقبل کے لئے دباؤ میں نکاح کیا۔

جج نے کہا کہ آدھار کارڈ میں جعلسازی اور ملزم کی ایسی ہی ایک اور شادی کے الزامات کی تحقیقات ہونی باقی ہیں۔

اگر اسے ضمانت پر رہا کیا گیا تو امکان ہے کہ وہ ثبوت سے چھیڑچھاڑکرے گا اور گواہوں پر اثرانداز ہوگا۔ جج نے 29  ستمبر کے احکام میں یہ بات کہی۔

میٹروپولیٹن مجسٹریٹ نے کیس کی مزید تحقیقات کے لئے کمشنر دہلی پولیس راکیش استھانہ کی مداخلت چاہی۔ مقامی پولیس آدھار کارڈ میں جعلسازی کی جانکاری یو اے ڈی آئی سے حاصل نہیں کرسکے گی۔

جج نے کہا کہ آدھار کارڈ میں جعلسازی کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کوئی ماہر گینگ یہ کام کررہی ہو۔ قومی سلامتی کے لئے یہ خطرہ ہے کیونکہ آدھار‘ شہریت کے ثبوت کے لئے استعمال کی جانے والی اہم دستاویز ہے۔

عورت نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا کہ ملزم نے راہول شرما کے نام کا آدھار کارڈ دکھاکر اس سے 2010میں مندر میں شادی کی تھی لیکن بیٹی کی پہلی سالگرہ پر اسے پتہ چلا کہ ملزم مسلمان ہے اور اس کا اصل نام نورعین ہے۔

سماج میں مذاق بننے کے ڈر سے عورت نے کوئی قانونی کارروائی نہیں کی۔ شوہر نے اس کا فائدہ اٹھایا اور اس سے کہا کہ وہ مسلمان ہوجائے اور نکاح کرلے۔ شدید دباؤ اور بچی کا مستقبل دیکھتے ہوئے اس نے اس کی یہ بات مان لی۔

اس کے بعد ملزم کا رویہ بدل گیا اور وہ بیوی کو‘بچی کو اور ہندو دھرم کو گالیاں دینے لگا۔ احتجاج کرنے پر وہ جان سے مار ڈالنے کی دھمکی دیتا تھا۔

 عورت نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے اسی طرح ایک اور عورت سے بھی شادی کی ہے۔ملزم کا کہنا ہے کہ اسے اس کیس میں بے بنیاد الزامات کے سہارے پھنسایا گیا ہے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.