حج 2022 کا نومبر کے پہلے ہفتہ میں اعلان: مختار عباس نقوی

حکومت ِ سعودی عرب اور حکومت ِ ہند کے طبی و کووِڈ پروٹوکول کو ذہن میں رکھتے ہوئے حج 2022کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ حج 2022 کا سارا عمل 100 فیصد ڈیجیٹل ہوگا۔

نئی دہلی: حج 2022 کے لئے عازمین حج کے انتخاب کا عمل، کووِڈ پروٹوکول بشمول 2ٹیکوں پر منحصر ہوگا۔ یہ حکومت ِ ہند اور حکومت ِ سعودی عرب کی رہنمایانہ خطوط کے تابع ہوگا۔مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے جمعہ کے دن یہ بات بتائی۔

نئی دہلی میں حج ریویو میٹنگ کی صدارت کے بعد مرکزی وزیر اقلیتی امور نے کہا کہ حج 2022 کا سرکاری اعلان نومبر کے پہلے ہفتہ میں کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ حج آن لائن درخواستوں کا عمل شروع ہوجائے گا۔ تمام عازمین ِ حج کو ڈیجیٹل ہیلت کارڈ، ای مسیحا طبی سہولت اور ای لگیج پری ٹیاگنگ فراہم کی جائے گی جس سے انہیں مکہ۔ مدینہ میں قیام اور ٹرانسپورٹیشن کی ساری جانکاری ملے گی۔

حکومت ِ سعودی عرب اور حکومت ِ ہند کے طبی و کووِڈ پروٹوکول کو ذہن میں رکھتے ہوئے حج 2022کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ حج 2022 کا سارا عمل 100 فیصد ڈیجیٹل ہوگا۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ انڈونیشیا کے بعد ہندوستان دوسرا ملک ہے جو سب سے زیادہ عازمین حج بھیجتا ہے۔

حج ریویو میٹنگ میں وزارت ِ اقلیتی امور کی سکریٹری رینوکا کمار‘ ہندوستانی سفیر متعینہ سعودی عرب اوصاف سعید‘ جوائنٹ سکریٹری وزارتِ اقلیتی امور نگار فاطمہ‘ جوائنٹ سکریٹری وزارت ِ خارجہ (خلیج) وِپل‘ جوائنٹ سکریٹری وزارت ِ شہری ہوابازی ایس کے شرما‘ ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل وزارتِ صحت پی کے سین‘ سی ای او حج کمیٹی آف انڈیا محمد یعقوب شیخا‘ جدہ میں ہندوستان کے قونصل جنرل شاہد عالم اور ایرانڈیا کے اکزیکٹیو ڈائرکٹر میلون ڈی سلوا نے شرکت کی۔

یو این آئی کے بموجب نقوی نے کہا کہ ’محرم‘ کے بغیر3000 سے زائد خواتین نے حج 2020-2021 کے لیے درخواست دی تھی۔ بغیرمحرم‘ حج سفر کے لئے جن خواتین نے 2020 اور 2021 کے لیے درخواستیں دی تھیں وہ بھی حج 2022 کے لیے ویالڈ رہیں گی۔

بغیرمحرم حج پر جانے والی تمام خواتین کو بغیر قرعہ اندازی کے حج پر جانے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حج جائزہ اجلاس میں حج 2022 کا ممکنہ کوٹہ، حج ایئر چارٹر، کورونا پروٹوکول، ویکسینیشن، طبی سہولت، ہیلتھ کارڈ، سعودی عرب میں مقامی ٹرانسپورٹ، عہدیداروں کا حج ڈیپوٹیشن، خادم الحجاج، حج ٹریننگ، امبارکیشن پوائنٹس وغیرہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.