دہلی-این سی آر میں ہوا کا معیار ’سنگین‘ زمرہ میں، دوروزہ لاک ڈاؤن کا امکان

سپریم کورٹ نے کہا کہ آلودگی کی سنگین صورتحال کی وجہ سے ہم اپنے گھروں میں بھی ماسک لگانے پر مجبور ہیں۔ چیف جسٹس نے دارالحکومت دہلی میں دو سے تین دنوں تک لاک ڈاؤن لگانے پر غور کرنے کا مشورہ دیا۔

نئی دہلی: دہلی اور قومی راجدھانی خطہ (این سی آر) میں عوام کو ہفتے کے روز بھی آلودگی سے راحت نہیں ملی۔ دارالحکومت میں عوام کو ابھی بھی سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے کیونکہ چاروں طرف کہرے کی ایک موٹی چادر چھائی ہوئی ہے اور ہوا کے معیار کی سطح ’سنگین ‘ زمرے میں جوں کی توں ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، قومی راجدھانی میں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی ) ہفتے کو کئی مقامات پر 500 کو پار کرگیا۔

دہلی-این سی آر کے تقریباً تمام اسٹیشن ’سنگین‘ ہوا کے معیار کے انڈیکس میں داخل ہوچکے ہیں۔ کچھ علاقوں میں یہ کوالٹی انڈیکس 500 سے تجاوز کرگیا ہے اور انتہائی سنگین زمرے میں پہنچ گیا ہے۔

محکمہ کے مطابق، اگر ہوا کے معیار کا انڈیکس صفر اور 50 کے درمیان ہے، تو اسے اچھے زمرے میں، 51 سے 100 کے درمیان ’اطمینان بخش‘، 101 سے 200 کے درمیان ’معتدل‘، 201 سے 300’خراب‘ زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ 301 اور 400 کے درمیان کو ’انتہائی خراب‘اور 401 سے 500 کو ’سنگین‘ زمرے میں سمجھا جاتا ہے۔

اسی دوران قومی راجدھانی میں آلودگی کی بڑھتی ہوئی سطح پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہفتہ کو کہا کہ سیاست اور حکومت کو فوری طور پر اپنی حدوں سے اوپر اٹھ کر ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ دو تین دنوں کے اندر آلودگی کی سطح پر قابو پایا جا سکے۔آلودگی کو ہر صورت کم کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے لاک ڈاؤن کے اقدامات پر غور کرنے کا بھی مشورہ دیا۔

چیف جسٹس این۔ وی رمن، جسٹس ڈی وائی۔ چندر چوڑ اور جسٹس سوریہ کانت نے دہلی کی آلودگی کی خطرناک حالت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکز اور دہلی حکومت کو مل کر کام کرنے کا مشورہ دیا اور حکم دیا کہ وہ دو تین دنوں میں آلودگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ آلودگی کی سنگین صورتحال کی وجہ سے ہم اپنے گھروں میں بھی ماسک لگانے پر مجبور ہیں۔ چیف جسٹس نے دارالحکومت دہلی میں دو سے تین دنوں تک لاک ڈاؤن لگانے پر غور کرنے کا مشورہ دیا۔

سپریم کورٹ پیر کو اس معاملے کی دوبارہ سماعت کرے گی۔ عدالت نے حکومت کو آلودگی کو کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی کارروائی کے سلسلے میں رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دیا۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.