دہلی فسادات، 10 ملزمین کیخلاف آتشزنی کے الزامات کالعدم

10 ملزمین میں محمد شاہنواز، محمد شعیب، شاہ رخ، راشد، آزاد، اشرف علی، پرویز، محمد فیصل، رشید، محمد طاہر شامل ہیں۔ جج نے اس کیس کو چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت کو منتقل کرنے کا حکم دیا۔

نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے آج 10 افراد کے خلاف آتشزنی کے الزامات کالعدم کردیئے جن پر فروری 2020ء کے فسادات کے دوران مبینہ طور پر دکانات کو لوٹنے کا الزام تھا۔

عدالت نے کہا کہ پولیس اپنی غلطی کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے اور دو مختلف تواریخ پر پیش آئے واقعات کو ضم کررہی ہے۔ یہ کیس تین شکایات کی بنیاد پر رجسٹر کیا گیا تھا۔

برج پال نامی ایک شخص نے کہا تھا کہ بلوائیوں کے ہجوم نے 25 فروری کو برج پوری روڈ پر واقع اس کی کرایہ کی دکان کو لوٹ لیا تھا جبکہ دیوان سنگھ نے دعویٰ کیا کہ 24 فروری کو ان کی دو دکانات کو لوٹ لیا گیا تھا۔

ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو نے آتشزنی کے الزامات کو کالعدم کرتے ہوئے کہا کہ شکایت گزاروں نے اپنے ابتدائی بیانات میں ہجوم کی جانب سے آگ لگانے یا دھماکو اشیاء استعمال کرنے کے بارے میں ایک لفظ تک نہیں کہا تھا۔

 دیوان سنگھ نے اپنے ضمنی بیان میں کہا تھا کہ بلوائیوں کے ہجوم نے اس کی دکان کو آگ لگا دی تھی۔

اس پر عدالت نے کہا کہ تحقیقاتی ایجنسی ضمنی بیانات قلمبند کرتے ہوئے اپنی غلطی کو نہیں چھپاسکتی کیونکہ پولیس سے کی گئی ابتدائی شکایات آتشزنی کے جرم کے بارے میں کوئی ذکر نہیں۔

جج نے مزید کہا کہ صرف پولیس گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر جنہیں اس واقعہ کی تاریخ کو اس علاقہ میں بیٹ آفیسر کی حیثیت سے تعینات کیا گیا تھا، آتشزنی کے الزامات عائد نہیں کیے جاسکتے۔

اے ایس آئی یادو نے کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ 24 فروری کو پیش آئے واقعہ کو کس طرح 25 فروری کے واقعہ کے ساتھ ضم کیا جاسکتا ہے جب تک کہ یہ واضح ثبوت موجود نہ ہو کہ وہی بلوائی دونوں تواریخ کو سرگرم تھے۔

جج نے کہا کہ مذکورہ بحث کے پیش نظر میرا خیال یہ ہے کہ تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے پیش کردہ مواد کی روشنی میں تعزیراتِ ہند کی دفعہ 436 (آگ لگانا یا دھماکو اشیاء کا استعمال کرتے ہوئے شرپسندی کرنا) کے الزامات عائد نہیں کیے جاسکتے۔  10 ملزمین میں محمد شاہنواز، محمد شعیب، شاہ رخ، راشد، آزاد، اشرف علی، پرویز، محمد فیصل، رشید، محمد طاہر شامل ہیں۔ جج نے اس کیس کو چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت کو منتقل کرنے کا حکم دیا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.