دہلی فسادات: مسجد کو آگ لگانے پر باپ بیٹے کے خلاف الزامات وضع

متھن سنگھ اور اس کے لڑکے جانی کمار پر الزام ہے کہ وہ تشدد برپا کرنے والے اس ہجوم میں شامل تھے جو جئے سری رام کے نعرے لگارہا تھا اور جس نے 25 فروری 2020 کو کھجوری خاص علاقہ کی مسجد کو نقصان پہنچایا تھا۔

نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے باپ بیٹے کے خلاف آتشزنی اور فساد برپا کرنے کے الزامات وضع کئے۔ فروری 2020 کے فسادات کے دوران ان دونوں نے مبینہ طورپر ایک مسجد کو آگ لگادی تھی اور توڑپھوڑ کی تھی۔

متھن سنگھ اور اس کے لڑکے جانی کمار پر الزام ہے کہ وہ تشدد برپا کرنے والے اس ہجوم میں شامل تھے جو جئے سری رام کے نعرے لگارہا تھا اور جس نے 25 فروری 2020 کو کھجوری خاص علاقہ کی مسجد کو نقصان پہنچایا تھا۔

ایڈیشنل سیشن جج ویریندر بھٹ نے 2ملزمین کے خلاف الزامات وضع کئے۔ جج نے ملزمین کے وکیل کی اس بحث کو نہیں مانا کہ ملزمین اس کیس میں ڈسچارج کے مستحق ہیں کیونکہ واقعہ کی رپورٹنگ اور گواہوں کے بیانات درج کرنے میں تاخیر ہوئی ہے۔

جج نے کہا کہ محض اس بنیاد پر یہ لوگ ڈسچارج کا دعویٰ نہیں کرسکتے۔ گواہوں کے بیانات درج کرنے میں تاخیر ارادتاً نہیں ہوئی۔ علاقہ کی صورتِ حال کی وجہ سے ایسا ہوا۔ اُس وقت علاقہ میں کئی دن تک خوف طاری تھا ایسے میں پولیس کو واقعہ کی اطلاع دینے میں لگ بھگ ایک ہفتہ کی تاخیر ہونا حق بجانب دکھائی دیتا ہے۔

اسرافیل نامی شخص کی شکایت میں کہا گیا کہ متھن سنگھ اور اس کا لڑکا جانی کمار تشدد برپا کرنے والے ہجوم کا حصہ تھے جو 25 فروری 2020 کو جئے سری رام کے نعرے لگاتے ہوئے اس کے مکان کے قریب سے گزرا اور اس نے اسے آگ لگادی۔

اسرافیل اپنی جان بچانے فاطمہ مسجد کی چھت پر چڑھ گیا جس کے بعد بھیڑ نے مسجد کو نقصان پہنچایا اور اسے آگ لگادی۔ متھن سنگھ نے اپنے لڑکے سے کہا کہ وہ چھوٹا گیس سلنڈر مسجد کے اندر پھینکے۔ باپ بیٹے نے بھیڑ میں شامل دیگر افراد کے ساتھ ایک مخصوص فرقہ کے مکانوں پر ایسی بوتلیں پھینکیں جن میں آتش گیر مادہ بھرا تھا۔

اسپیشل پبلک پراسیکوٹر نے عدالت سے کہا کہ اسرافیل کے علاوہ عینی شاہدین محمد طیب‘ محبوب عالم‘ شاداب اور محمد اکرم نے بھی ہجوم میں ان دونوں ملزمین کو ان کے مکانوں اور فاطمہ مسجد کو آگ لگاتے دیکھا تھا۔

عینی شاہدین‘ دونوں ملزمین کو اچھی طرح جانتے ہیں کیونکہ یہ لوگ ایک ہی علاقہ کے رہنے والے ہیں۔ فروری 2020میں شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوئی تھیں۔ یہ جھڑپیں بے قابو ہوگئی تھیں اور کم ازکم 53 جانیں گئی تھیں اور 700 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.