دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کا جشن

ایک سال سے اپنا گھر بار چھوڑکر غازی پور سرحد پر ڈٹے 63 سالہ برج پال سنگھ فوجی نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ مودی نے آخرکار ہمیں کسان مان لیا۔ آج تک ہمیں مختلف ناموں سے پکارا جارہا تھا۔

نئی دہلی: وزیراعظم کے اعلان کے فوری بعد غازی پور‘ ٹیکری اور سنگھو بارڈر پوائنٹس پر کسانوں نے خصوصی یگن کیا اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا۔ احتجاجیوں نے تاہم کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں زرعی قوانین پر خط تنسیخ پھیرے جانے تک یہاں سے ہٹنے والے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقل ترین امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر بھی ان کے حق میں فیصلہ ہونا چاہئے۔ لگ بھگ ایک برس سے کسان سردی‘ گرمی‘ بارش کی سختیاں اور کووِڈ کی دوسری خطرناک لہر کا سامنا کرتے ہوئے دہلی کی سرحدوں پر ڈٹے رہے۔

زرعی قوانین رد ہونے کا اعلان گروپرب (گرو نانک جینتی)کے موقع پر  ہوا ہے۔ لنگر سے آج چھولے چاول‘ جلیبیاں اور دیگر مٹھائیاں بانٹی گئیں۔ خوشی کا ماحول تھا۔ غازی پور سرحد پر کسانوں نے خصوصی یگن کیا تاکہ دوران احتجاج مرنے والے سینکڑوں کسانوں کی آتما کو شانتی ملے۔ سمیکت کسان مورچہ (ایس کے ایم) کے رکن راجندر یادو نے کہا کہ ملک بھر کے کسانوں کی آواز پہلی مرتبہ پردھان منتری تک پہنچی۔ میں امید کرتا ہوں کہ پردھان منتری اپنے عہدہ کا وقار برقرار رکھیں گے اور اپنا وعدہ پورا کریں گے۔ مقام احتجاج پر پی ٹی آئی سے بات چیت کرنے والے بیشتر کسانوں نے مسرت کا اظہار کیا۔

 ایک سال سے اپناگھر بار چھوڑکر غازی پور سرحد پر ڈٹے 63 سالہ برج پال سنگھ فوجی نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ مودی نے آخرکار ہمیں کسان مان لیا۔ آج تک ہمیں مختلف ناموں سے پکارا جارہا تھا۔کئی کسانوں نے پارلیمنٹ میں خط ِ تنسیخ پھیرے جانے کے تعلق سے اندیشہ کا اظہار کیا اور کہا کہ کہیں یہ سیاسی لحاظ سے فیصلہ کن ریاست اترپردیش کے اسمبلی الیکشن سے قبل ایک اور جملہ بازی تو نہیں ہے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.