دہلی کی عدالت میں شرجیل امام کی درخواست ِ ضمانت مسترد

اپیل مسترد کرتے ہوئے عدالت کے اڈیشنل سیشن جج انوج اگروال نے بتایا کہ تقاریر کا لب و لہجہ ناپسندیدہ تھا اور اس سے عوام کے میل ملاپ، امن و آشتی پر اثر پڑسکتا ہے۔

نئی دہلی: یہاں کی ایک عدالت نے جمعہ کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طالب علم و جہد کار شرجیل امام کی 2019 کیس سے متعلق مبینہ شہریت ترمیمی اور شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی) کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کے تحت ان کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔

اپیل مسترد کرتے ہوئے عدالت کے اڈیشنل سیشن جج انوج اگروال نے بتایا کہ تقاریر کا لب و لہجہ ناپسندیدہ تھا اور اس سے عوام کے میل ملاپ، امن و آشتی پر اثر پڑسکتا ہے۔

سوامی ویویکا نندا کا حوالہ دیتے ہوئے جج اگروال نے کہا کہ ہم اپنے خیالات کے تعلق سے پہچانے جاتے ہیں، لہٰذا آپ کو اس بات پر احتیاط کرنی ہوگی کہ کیا آپ غور کرتے ہیں، الفاظ دوسری نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کا دور تک سفر ہوتا ہے۔

قبل ازیں ان کے وکیل تنویر احمد میر نے استدلال کیا تھا کہ حکومت پر نکتہ چینی کرنے پر اسے باغی نہیں قرار دیا جاسکتا، تاہم جج نے اس پر تبصرہ سے انکار کیا اور کہا کہ اگر تقریر سیکشن 24A (بغاوت) کے تحت آتی ہے تو اس پر زیادہ تجزیہ کی ضرورت ہے۔

متعلقہ
ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.