ساورکر نے گاندھی کے کہنے پر درخواست رحم داخل کی تھی: راجناتھ سنگھ

کانگریس قائد جئے رام رمیش نے راج ناتھ سنگھ پر تنقید کی اور کہا کہ راج ناتھ سنگھ جی‘ مودی سرکار کی چند مہذب اور باوقار آوازوں میں ایک ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی آر ایس ایس کی عادت سے آزاد نہیں ہوئے ہیں۔

نئی دہلی: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے اس دعویٰ پر چہارشنبہ کے دن تنازعہ پیدا ہوگیا کہ آر ایس ایس کے نظریہ ساز ونائک دامودر ساورکر (وی ڈی ساورکر) نے مہاتما گاندھی کے کہنے پر انگریزوں کی حکومت سے معافی کی درخواست کی تھی۔مورخین‘ ماہرین اور سیاسی جماعتوں نے راج ناتھ سنگھ پر حقائق مسخ کرنے کا الزام عائد کیا۔

 وزیر دفاع نے ساورکر پر ایک کتاب کی رسم اجراء کے موقع پر ساورکر کو بیسویں صدی کا پہلا ہندوستانی دفاعی ماہر قراردیا تھا اور کہا تھا کہ مخصوص سیاسی نظریات کے حامل لوگوں نے ساورکر کی نفی کی۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ساورکر کے تعلق سے جھوٹ پھیلایا گیا۔ یہ بار بار کہا گیا کہ ساورکر نے برٹش حکومت سے معافی مانگی تھی لیکن سچائی یہ ہے کہ ساورکر نے درخواست رحم اپنے بل بوتے پر داخل نہیں کی تھی حالانکہ درخواست رحم داخل کرنا قیدی کا حق ہوتا ہے۔

مہاتماگاندھی نے ساورکر سے درخواست رحم داخل کرنے کو کہا تھا۔ مہاتما گاندھی کے کہنے پر ہی یہ درخواست داخل ہوئی تھی۔ مہاتما گاندھی نے ساورکر کی رہائی کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے ساورکر سے کہا تھا کہ وہ بھی دوسروں کی طرح عدم تشدد کے راستہ پر چل کر جدوجہد آزادی میں حصہ لے سکتے ہیں۔

 کئی سیاسی جماعتوں نے 1920 میں ساورکر کے نام مہاتما گاندھی کا مکتوب شیئر کیا اور وزیر دفاع پر حقائق مسخ کرنے کا الزام عائد کیا۔ مکاتیب کے بموجب جنہیں حکومت ہند کے پبلیکیشنز ڈیویژن کی شائع کردہ کتاب ”دی کلیکٹیڈ ورکس آف مہاتما گاندھی“ میں شامل اشاعت کیا گیا‘ ساورکر نے 18 جنوری 1920 کو مہاتما گاندھی کو لکھا تھا کہ ساورکر بندھو (بھائی) 10 سال کی جیل کاٹ چکے ہیں۔

 اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ حکومت ہند (برٹش حکومت) نے انہیں رہا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں آپ سے سننا چاہتا ہوں کہ ایسی صورتِ حال میں کیسے آگے بڑھا جائے۔ 25جنوری 1920 کو مہاتما گاندھی نے جواب میں کہا تھا کہ مجھے تمہارا خط ملا۔ تمہیں مشورہ دینا دشوار ہے تاہم میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ایک مختصر درخواست داخل کرو جس میں تمام حقائق بیان کئے جائیں۔

کانگریس قائد جئے رام رمیش نے راج ناتھ سنگھ پر تنقید کی اور کہا کہ راج ناتھ سنگھ جی‘ مودی سرکار کی چند مہذب اور باوقار آوازوں میں ایک ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی آر ایس ایس کی عادت سے آزاد نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے 25جنوری 1920کی مہاتما گاندھی کی تحریر کو توڑامروڑا ہے۔ کانگریس قائد ششی تھرور نے کہا کہ ساورکر کو 4 جولائی 1911 کو سیلولر جیل میں ڈالا گیا تھا۔ اندرون 6 ماہ اس نے درخواست رحم داخل کردی تھی۔ اس نے دوسری درخواست رحم 14 نومبر 1913کو داخل کی تھی جبکہ گاندھی جی جنوبی آفریقہ سے 9 جون 1915کو ہندوستان لوٹے تھے۔

سی پی آئی ایم جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے کہا کہ حقائق کو مسخ کرتے ہوئے کسی کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آر ایس ایس کبھی بھی جدوجہد آزادی کا حصہ نہیں رہی۔ اس نے اکثرو بیشتر انگریزوں سے سازباز کیا۔

بہوجن سماج پارٹی قائد دانش علی نے کہا کہ حقائق کو مسخ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی والے حقائق کو مسخ کرنے کے ماہر ہیں۔ ان لوگوں کی حکمت عملی جو جگ ظاہر ہے‘ یہی ہے کہ جھوٹ کو ہزار مرتبہ بولو تو وہ سچ بن جاتا ہے۔ مورخ عرفان حبیب نے کہا کہ مہاتما گاندھی کا مکتوب ان کی فراخدلی کو ظاہر کرتا ہے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.