سپریم کورٹ یوپی حکومت پر برہم

بنچ نے کہا کہ سالوے آپ نے کہا تھا کہ پولیس 44 گواہوں کی جانچ کرچکی ہے اور ان میں 4 کے بیانات سکشن 164 کے تحت ریکاڈ کرچکی ہے۔ دیگر گواہوں کے بیانات کیوں ریکارڈ نہیں ہوئے۔ اس پر سالوے نے جواب دیا کہ یہ عمل جاری ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کے دن سنسنی خیز لکھیم پور کھیری کیس کی جاریہ تحقیقات کے سلسلہ میں حکومت ِ اترپردیش پر برہمی ظاہر کی۔ اس نے کہا کہ پولیس اپنے قدم پیچھے ہٹارہی ہے۔ پولیس کو چاہئے کہ وہ مجسٹریٹ کے سامنے گواہوں کے بیانات درج کرانا یقینی بنائے۔ گواہوں کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔

 سپریم کورٹ نے کہا کہ ہمارے خیال میں پولیس پیچھے ہٹ رہی ہے۔ یہ تاثر دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ تحقیقات کبھی نہ ختم ہونے والی کہانی نہ بنے۔ اس نے کہا کہ لگ بھگ 40 گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں ہوئے۔ بیانات کے اندراج کے فوری اقدامات کئے جائیں۔ کیس کے سلسلہ میں  تاحال 10  افراد بشمول مرکزی مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا کے لڑکے آشیش مشرا کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

 سینئر وکیل ہریش سالوے‘ ریاستی حکومت کی وکیل گریما پرساد کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹس رپورٹ مہربند لفافہ میں چہارشنبہ  کے دن اس تاثر کی وجہ سے داخل کی گئی کہ یہ صرف عدالت کے مشاہدہ کے لئے ہے۔اس پر بنچ نے کہا کہ ہمیں یہ رپورٹ ابھی ملی ہے۔ ہم نے مہربند لفافوں کے بارے میں کبھی بھی کچھ بھی نہیں کہا۔

 بنچ نے جمعہ کے دن معاملہ کی سماعت سے انکار کردیا اور اگلی تاریخ سماعت 26  اکتوبر مقرر کی۔ بنچ نے کہا کہ سالوے آپ نے کہا تھا کہ پولیس 44 گواہوں کی جانچ کرچکی ہے اور ان میں 4 کے بیانات سکشن 164 کے تحت ریکاڈ کرچکی ہے۔ دیگر گواہوں کے بیانات کیوں ریکارڈ نہیں ہوئے۔ اس پر سالوے نے جواب دیا کہ یہ عمل جاری ہے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.