سی بی آئی، ای ڈی ڈائرکٹرس کی میعاد میں توسیع کا مسئلہ، کانگریس سپریم کورٹ سے رجوع

کانگریس قائد رندیپ سرجے والا نے کہا کہ سی بی آئی اور ای ڈی کے ڈائرکٹرس کی دوسالہ میعاد مقرر ہے لیکن اب ان کی میعاد میں ایک ایک سال کی توسیع کی جاسکے گی۔ تاہم یہ توسیع پانچ سال سے زیادہ کی نہیں ہوگی۔

نئی دہلی: کانگریس قائد رندیپ سرجے والا نے مرکزی حکومت کے آرڈیننس کو جن کے ذریعہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ(ای ڈی) اور سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) کے سربراہان کی میعاد کو دوسال سے بڑھاکر5 سال کردیاگیا ہے‘ سپریم کورٹ میں چیالنج کیا ہے۔

انہوں نے سنٹرل ویجلنس کمیشن (ترمیمی) آرڈیننس 21-2020 اور دہلی اسپیشل پولیس اسٹابلشمنٹ(ترمیمی) آرڈیننس 21-2020 مورخہ 14نومبر کے ساتھ ساتھ وزارتِ پرسونل کے اعلامیہ مورخہ 15 نومبر کے خلاف درخواست داخل کی ہے۔

ان آرڈیننسیس کے ذریعہ بنیادی اصولوں میں ترمیم کی گئی ہے جس کے نتیجہ میں حکومت انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور سی بی آئی سربراہان کے علاوہ محکمہ دفاع‘ داخلہ‘ اور خارجہ کے معتمدین کی میعادوں میں توسیع کرسکے گی۔

کانگریس قائد نے عدالت سے عبوری راحت بھی طلب کی ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ ان آرڈیننس سے ایسے اداروں کی آزادی کو یقینی بنانے عدالت کی جانب سے وقفہ وقفہ سے جاری کردہ احکام کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان آرڈیننس سے ظاہرہوتا ہے کہ حکام واضح طور پر اختیارات کا بیجااستعمال کررہے ہیں۔

کانگریس جنرل سکریٹری اور ترجمان اعلیٰ سرجے والا نے دعویٰ کیاکہ ان آرڈیننس سے حکومت ہند کو انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور سی بی آئی کے ڈائرکٹرس کی میعادوں میں ایک ایک سال کی توسیع کرنے کا اختیار حاصل ہوجاتا ہے۔

اس توسیع کیلئے کوئی معیار مقرر نہیں کیاگیا ہے اور صرف مفادعامہ کا’مبہم حوالہ‘ دیاگیا ہے۔ اس کی وجہ سے مذکورہ تحقیقاتی اداروں کی آزادی پر راست اور واضح اثر پڑتا ہے۔

سرجے والا نے یہ بھی الزام عائد کیاکہ اس اڈھاک طریقہ سے میعاد میں توسیع سے تحقیقاتی اداروں پر عاملہ کے کنٹرول کی توثیق ہوتی ہے اور یہ (آرڈینینس) ان کی آزادانہ کارکردگی سے راست طور پر متضاد ہیں۔

کانگریس قائد نے کہا کہ سی بی آئی اور ای ڈی کے ڈائرکٹرس کی دوسالہ میعاد مقرر ہے لیکن اب ان کی میعاد میں ایک ایک سال کی توسیع کی جاسکے گی۔ تاہم یہ توسیع پانچ سال سے زیادہ کی نہیں ہوگی۔

اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہرمرتبہ توسیع‘ تقرر کرنے والی اتھاریٹی کی مرضی اور مطمئن ہونے پر منحصر ہوگی۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.