صرف زرعی قوانین سے دستبرداری مسئلہ کا حل نہیں : سچن پائلٹ

کسانوں کا یہ تاثر ہے کہ حکومت اپنے اس اعلان پر عمل آوری میں پس و پیش کرے گی یا پھر ان قوانین کو روبعمل لایا جائے گا۔

نئی دہلی: حالیہ انتخابات میں بی جے پی کو شکست کے بعد حکومت تین زرعی قوانین سے دستبرداری کے لیے مجبور ہوگئی ہے۔ یہ بات راجستھان کے سابق ڈپٹی چیف منسٹر پائلٹ نے بتائی۔

خبر رساں ادارہ پی ٹی آئی کے نمائندہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کانگریس کے قائد سچن پائلٹ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے زراعت سے متعلق نئے قوانین کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کہ حکومت نے اعلان کردیا ہے، لیکن کسانوں کو اس پر بھروسہ نہیں ہے۔

کسانوں کا یہ تاثر ہے کہ حکومت اپنے اس اعلان پر عمل آوری میں پس و پیش کرے گی یا پھر ان قوانین کو روبعمل لایا جائے گا۔

راجستھان کے سابق ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اقل ترین امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے لیے قانونی ضمانت کو یقینی بنائے، جیسا کہ کسانوں کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں قانون سازی کی جانی چاہیے، تاکہ یہ عمل باقاعدگی کے ساتھ انجام پائے۔ سچن پائلٹ نے کہا کہ احتجاج کے دوران کسانوں کو ناقابل بیان نقصانات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اب بھی ذہنی طور پر پرسکون نہیں ہیں۔

ہندوستان کی تاریخ میں اس طرح کا ایک طویل ایجی ٹیشن کسانوں کی جانب سے کیا گیا، جو کہ ایک سال تک جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ تاحال ملک میں اس طرح کا طویل احتجاج نہیں دیکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ کہ زرعی نئے قوانین سے دستبرداری کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن احتجاج کے دوران کئی افراد فوت ہوگئے اور روزگار کے بھی مسائل بھی پیدا ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ کسان جو کہ تین زرعی قوانین سی دستبرداری کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کررہے تھے، انہیں نکسلائٹس، دہشت گرد اور علیحدگی پسند قرار دیا گیا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.