فرقہ وارانہ تشدد‘ آتش فشاں پہاڑ سے نکلنے والا لاوا:کپل سبل

کپل سبل ذکیہ جعفری کی طرف سے بحث کررہے تھے جنہوں نے 2002کے فسادات کیس میں 64 افراد بشمول نریندر مودی کو ایس آئی ٹی کی کلین چٹ کو چیلنج کیا ہے۔ مودی اُس وقت گجرات کے چیف منسٹر تھے۔

نئی دہلی: سینئر وکیل کپل سبل نے چہارشنبہ کے دن سپریم کورٹ میں کہا کہ فرقہ وارانہ تشدد‘ ایک آتش فشاں پہاڑ سے نکلنے والے لاوا جیسا ہے۔ وہ ذکیہ جعفری کی طرف سے بحث کررہے تھے جنہوں نے 2002کے فسادات کیس میں 64  افراد بشمول نریندر مودی کو ایس آئی ٹی کی کلین چٹ کو چیلنج کیا ہے۔ مودی اُس وقت گجرات کے چیف منسٹر تھے۔ کپل سبل نے جسٹس اے ایم کھنولکر کی بنچ سے کہا کہ فرقہ وارانہ تشدد‘ مستقبل کے انتقام کے لئے ”زرخیز میدان“ ہوتا ہے۔ وہ خود پاکستان میں اپنے نانا نانی کو گنوا چکے ہیں۔

 انہوں نے بنچ سے کہا کہ فرقہ وارانہ تشدد‘ آتش فشاں سے اُبلنے والے لاوا کی طرح ہوتا ہے۔ یہ لاوا جہاں سے بھی گزرتا ہے زمین پر نشان چھوڑ جاتا ہے۔ یہ مستقبل کے انتقام کا زرخیز میدان ہوتا ہے۔ کپل سبل نے جو جذباتی دکھائی دے رہے تھے‘ کہا کہ میں نے پاکستان میں اپنے نانانانی کو گنوایا ہے۔ سینئر وکیل نے کہا کہ وہ اے یا بی پر الزام نہیں دھررہے ہیں لیکن دنیا کو ایک پیام ضرور جانا چاہئے کہ یہ ”ناقابل قبول“ ہے اور اسے ”برداشت نہیں کیا جاسکتا“۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی معاملہ ہے کیونکہ انتخاب قانون کی حکمرانی یقینی بنانے یا لوگوں کو مارکاٹ کے لئے کھلا چھوڑدینے کے درمیان ہے۔ ذکیہ جعفری‘ مقتول کانگریس قائد احسان جعفری کی بیوہ ہیں جنہیں احمدآبادکی گلبرگ سوسائٹی میں 28 فروری 2002کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری ان 28  افراد میں شامل تھے جنہیں گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس کے ڈبہ نمبر 6 کو آگ لگانے کے واقعہ کے ایک دن بعد ہلاک کردیا گیا تھا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.