لکھیم پور کھیری سانحہ، یوپی حکومت جمعہ کو ایکشن رپورٹ پیش کرے: سپریم کورٹ

عدالت عظمیٰ نے کہا ’’تشدد کے معاملے میں درج ایف آئی آر پر اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے۔‘‘عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومت کو آگاہ کرنا چاہئے کہ ایف آئی آر میں شامل ملزمین کو اب تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے لکھیم پور کھیری تشدد معاملہ میں، جس میں کسانوں سمیت 8 افراد کی ہلاکت کی ’ازخود نوٹس‘ کی سماعت کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت کو ہدایت کی کہ وہ تین اکتوبر کے واقعہ سے متعلق ایف آئی آر پر اب تک کی کارروائی پر’اسٹیٹس رپورٹ‘ جمعہ تک پیش کریں ۔

چیف جسٹس وی این رمن کی سربراہی میں ایک ڈویژن بنچ نے اتر پردیش حکومت کی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل گریما پرساد سے جمعہ تک ’ایکشن اسٹیٹس رپورٹ‘ پیش کرنے کیلئے کہا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے کہا ’’تشدد کے معاملے میں درج ایف آئی آر پر اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں اگلے 24 گھنٹوں میں ایک تفصیلی کارروائی رپورٹ پیش کی جائے‘‘۔ عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومت کو آگاہ کرنا چاہئے کہ ایف آئی آر میں درج ملزمان کو اب تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا ہے۔

خیال رہے تین اکتوبر کو ہونے والی پرتشدد جھڑپوں اور اس کے بعد ہلاکتوں کے سبب ملک بھر میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔ اس معاملہ میں وزیر کی برخاستگی اور ان کے بیٹے کی گرفتاری کیلئے اپوزیشن سرکار سے بار بار مانگ کررہی ہے۔

عدالت عظمی نے نہ کہا ’’ تشدد کے معاملہ میں جو ایف آئی آر درج کی گئی اس پر اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے۔ اس بارے می آئندہ 24 گھنٹوں میں تفصیلی اسٹیٹس رپورٹ پیش کی جائے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ایف آئی آر میں درج ملزمان کو اب تک گرفتار کیا گیا یا نہیں ، اس بارے میں بھی اترپردیش سرکار ہمیں آگا کرائے ‘‘۔

عدالت عظمیٰ نے تشدد میں اپنے 19سال کے بیٹے کے مارے جانے کے واقعہ کے سبب سنگین طور سے بیمار ایک خاتون کا مکمل علاج کرانے کا بھی حکم ریاستی سرکار کو دیا۔ متاثرہ کی جانب سے ایک وکیل نے خاتون کی صحت کی حالت کے بارے میں عدالت کو آگاہ کیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے سماعت کے آغاز میں کہا کہ رجسٹری آفس کے ساتھ اطلاعات کی ترسیل کی خامیوں کی وجہ سے لکھیم پور کھیری تشدد کیس کو آج ازخود سماعت کیلئے درج کیا گیا تھا لیکن آگے کی سماعت مفاد عامہ کی عرضی کے طور پر کی جائے گی۔ اس کے بعد ڈویژن بنچ نے اسے مفاد عامہ کی درخواست کے طور پر مزید سننے کا حکم دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ صرف مفاد عامہ کی درخواست کے طور پر سنا جائے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے دو وکلا کے خطوط کے ذریعہ تشدد کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں۔ اس کی وجہ سے الجھن کی ایسی صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے رجسٹری کو حکم دیا ہے کہ اس معاملے کو مفاد عامہ کی درخواست کے طور پر درج کیا جائے۔ مفاد عامہ کی درخواست کے حصے کے طور پر اس معاملے کی کل سماعت ہوگی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ چہارشنبہ کو سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر بتایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں 3 اکتوبر کو ہونے والے تشدد کا از خود نوٹس لیا ہے۔ سماعت چیف جسٹس این وی رمن ، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی ڈویژن بنچ نے کی۔

اتر پردیش پولیس نے کئی لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے جن میں اجے مشرا اور آشیش مشرا شامل ہیں ، اس معاملہ میں مشتعل افراد اور اپوزیشن کے بھاری دباؤ کے درمیان ان دونوں باپ بیٹے کے خلاف رپورٹ درج کی گئی۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل گریما پرساد نے لکھیم پور کھیری تشدد کو انتہائی افسوس ناک واقعہ قرار دیا۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا ’’ہم بھی ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔ اس واقعہ میں 8 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں‘‘۔ اترپردیش حکومت کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ واقعہ کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔ اس معاملے میں ایس آئی ٹی اور جوڈیشل انکوائری بھی شروع کردی گئی ہے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.