ملک میں 1991 جیسی صورتحال پیدا ہوگئی : راہول گاندھی

پارٹی ہیڈ کوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گاندھی نے کہا کہ ملک اس وقت ایک سنگین معاشی بحران میں پھنسا ہوا ہے۔

نئی دہلی :کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے کہا ہے کہ ملک میں زبردست معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور اس سے نکلنے کے لیے ایک نئے معاشی نقطہ نظر کی اشد ضرورت ہے۔

چہارشنبہ کو یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گاندھی نے کہا کہ ملک اس وقت ایک سنگین معاشی بحران میں پھنسا ہوا ہے۔ وزیر خزانہ ان حالات کو نہیں سمجھ رہی ہیں ، اس لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو خود آگے آنا چاہیے اور ماہرین سے بات کرنی چاہیے اور ملک کو اس بحران سے نکالنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ پیدا ہونے والی معاشی صورتحال سے نکلنے کے لیے ایک نئے انداز کی ضرورت ہے۔ نوٹ بندی اور میڈ ان انڈیا جیسے مودی کے خیالات ناکام ہو چکے ہیں ، اس لیے انہیں کانگریس کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

راہول گاندھی نے کہا کہ اس وقت ملک میں نہ صرف معاشی بحران ہے بلکہ قیادت کا بحران بھی پیدا ہوا ہے۔

وزیر اعظم حالات دیکھ کر گھبرائے ہوئے ہیں اس لیے وہ ہر مسئلے پر خاموشی اختیار کرتے ہیں لیکن خاموشی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین ہماری حالت کو بھی سمجھتا ہے اس لیے وہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

راہول گاندھی نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بارے میں لوگوں میں زبردست غصہ ہے اور کورونا کے بہانے ان کے غصے کو دبانے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ لاکھوں لوگ سڑکوں پر جلوس نکالیں اور کورونا بحران کے اس دور میں حکومت کے خلاف احتجاج کریں۔

انہوں نے بتایا کہ نہ صرف عوام کا غصہ دبایا جا رہا ہے بلکہ میڈیا کی آواز کو بھی دبایا جا رہا ہے ، اداروں کی آزادی کو پامال کیا جا رہا ہے اور یہاں تک کہ اپوزیشن کو بھی پارلیمنٹ میں بولنے کی اجازت نہیں ہے۔

راہول گاندھی نے حکومت کو خبردار کیا کہ اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس غصے کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا۔ حکومت کے خلاف عوام کا یہ غصہ ضرور بھڑک اٹھے گا ، لیکن یہ غصہ کب نکلے گا ، ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ عوام حکومت سے پوچھتی ہے کہ اس نے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا کر جو رقم کمائی ہے وہ ان کی پاکٹ منی ہے اور یہ رقم کہاں گئی اس کا حساب عوام کو دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ 2014 میں جب کانگریس کی حکومت تھی تو بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل 105 روپے فی بیرل تھا ، جو کہ اب 71 ڈالر فی بیرل کی شرح سے فروخت ہو رہا ہے ، 32 ڈالر کی کمی سے۔ اسی طرح بین الاقوامی مارکیٹ میں ایل پی جی گیس کی قیمت میں 26 فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اس کا فائدہ ملنا چاہیے لیکن یہ حکومت عوام پر الٹا بوجھ ڈال رہی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.