نان و نفقہ ادا کرنے ٹرائیل کورٹ کا حکم دہلی ہائی کورٹ میں کالعدم

ہائی کورٹ جج نے مزید کہا کہ قانونِ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 125 کے تحت اگر کوئی شخص جس کا ذریعہ معاش کافی ہو اور بیوی جو خود کی زندگی گذارنے کے قابل نہیں، کو نان و نفقہ دینے سے گریز کرتا ہے۔

نئی دہلی: نظم و ضبط کی برقراری میں قانونی خامیوں کے سبب قانون شکنوں کے بچ جانے پر دہلی ہائی کورٹ نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے ایک عدالتی حکم کو کالعدم کردیا، جس میں یہ پتہ چلنے کے بعد کہ دونوں فریقین شریک حیات کے حامل ہیں شوہر کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنی بیوی کو نان و نفقہ ادا کرتا رہے۔ جسٹس سبرا منیم پرساد جو ایک ٹرائیل کورٹ کے حکم جس میں شوہر کو قانون ضابطہ فوجداری کی دفعہ 125 کے تحت بیوی کو نان و نفقہ ادا کرنے کی ہدایت دی گئی کے خلاف مرافعہ درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ جب کہ وہ خاتون کے موقف پر ہمدردی رکھتے ہیں، لیکن وہ اسے نان و نفقہ سے انکار کرنے پر مجبور ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ متعلقہ قانون کے مطابق ایک دوسری بیوی جس کی پہلی شادی کی تنسیخ عمل میں نہیں آئی کو قانونی طور پر شادی شدہ بیوی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ جج نے کہا کہ اس کے باوجود کہ فریقین شوہر اور بیوی کی طرح زندگی گذار رہے ہیں، یہ قانونی اعتبار سے جائز شادی نہیں سمجھی جائے گی، کیوں کہ دونوں پہلے سے شادی شدہ ہیں اور ان کا ازدواجی رشتہ ہنوز برقرار ہے۔

ہائی کورٹ جج نے مزید کہا کہ قانونِ ضابطہئ فوجداری کی دفعہ 125 کے تحت اگر کوئی شخص جس کا ذریعہ معاش کافی ہو اور بیوی جو خود کی زندگی گذارنے کے قابل نہیں، کو نان و نفقہ دینے سے گریز کرتا ہے، ٹرائیل کورٹ ایسے شخص کو ماہانہ نان و نفقہ دینے کا حکم جاری کرسکتی ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ مذکورہ کیس میں ایسی صورتِ حال کا سامنا نہیں ہے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.