نوجوانوں کو کب تک صبر کرنا ہوگا:ورون گاندھی

ورون گاندھی نے ٹویٹ کیا کہ پہلے تو کوئی سرکاری ملازمتیں ہیں ہی نہیں اور اگر کچھ مواقع ہیں تو پھر پرچہ سوالات کا افشاء ہوجاتا ہے۔ اگر آپ امتحان دیتے ہیں تو برسوں تک نتائج کا اعلا ن نہیں کیا جاتا اور پھر کسی اسکام کی وجہ سے یہ منسوخ ہوجاتا ہے۔

نئی دہلی: بی جے پی رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے آج ایک بار پھر ملازمتوں اور پرچہ سوالات کے افشاء کے بارے میں خود اپنی حکومت سے سوال کیا۔انہوں نے کہا کہ پہلے تو کوئی سرکاری ملازمتیں ہیں ہی نہیں اور اگر کچھ مواقع ہیں تو پھر پرچوں کا افشاء ہوجاتاہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہندوستان کے نوجوانوں کو کب تک صبر کرنا پڑے گا۔ بی جے پی کے پیلی بھیت سے رکن لوک سبھا ورون گاندھی‘ کسانوں کے احتجاج‘ لکھیم پور کھیری واقعہ جیسے مسائل پر خود اپنی پارٹی کی حکومت سے مسلسل سوال کررہے ہیں۔

 انہوں نے ٹویٹ کیا کہ پہلے تو کوئی سرکاری ملازمتیں ہیں ہی نہیں اور اگر کچھ مواقع ہیں تو پھر پرچہ سوالات کا افشاء ہوجاتا ہے۔ اگر آپ امتحان دیتے ہیں تو برسوں تک نتائج کا اعلا ن نہیں کیا جاتا اور پھر کسی اسکام کی وجہ سے یہ منسوخ ہوجاتا ہے۔ 1.25 کروڑ نوجوان دو سال سے ریلوے کے گروپ ڈی امتحانات کے منتظر ہیں۔ فوج میں بھرتی کا بھی یہی معاملہ ہے۔ ہندوستان کے نوجوانوں کو کب تک صبر کرنا ہوگا؟۔ واضح رہے کہ گزشتہ اتوار کو پرچہ سوالات کے افشاء کے بعد یوپی ٹی ای ٹی 2021 کو منسوخ کرنا پڑا تھا۔

 پیر کے روز انہوں نے ٹویٹ کیا تھا کہ یوپی ٹی ای ٹی پرچہ سوالات کے افشاء کی وجہ سے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہورہا ہے۔ اس دلدل کی چھوٹی مچھلی کے خلاف کارروائی موثر ثابت نہیں ہوگی۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان کے سیاسی سرپرست تعلیمی مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ بیشتر تعلیمی ادارے‘ سیاسی بارسوخ شخصیات کی ملکیت ہیں۔ آخر ان کے خلاف کارروائی کب کی جائے گی۔اکتوبر میں ورون اور ان کی ماں منیکا گاندھی کو بی جے پی کی قومی عاملہ کمیٹی سے خارج کردیا گیا تھا جو پارٹی کا اعلیٰ فیصلہ ساز ادارہ ہے۔

لکھیم پور کھیری واقعہ کے بعد ورون گاندھی نے کہا تھا کہ اسے ہندو بمقابلہ سکھ جنگ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ لکھیم پور کھیری واقعہ کو ہندو بمقابلہ سکھ جنگ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ نہ صرف غیراخلاقی اور جھوٹا بیانیہ ہے بلکہ ایسا کرنا خطرناک بھی ثابت ہوگا اور وہ زخم دوبارہ ہرے ہوجائیں گے جنہیں بھرنے کے لئے ایک نسل درکار ہوئی تھی۔ ہمیں حقیر سیاسی مفادات کو قومی یکجہتی پر فوقیت نہیں دینی چاہئے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.