وزیر اعظم کی سیکوریٹی کوتاہی مسئلہ، سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ کمیٹی کا خیرمقدم

نریندر مودی کی سیکوریٹی میں کوتاہی کی تحقیقات کرنے سپریم کورٹ کی جانب سے آج جسٹس اندو ملہوترا سابق سپریم کورٹ جج کی زیرقیادت کمیٹی کے تقرر کے بعد ریاست کے کانگریس لیڈروں نے اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا۔

نئی دہلی:  پنجاب میں گذشتہ ہفتہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سیکوریٹی میں کوتاہی کی تحقیقات کرنے سپریم کورٹ کی جانب سے آج جسٹس اندو ملہوترا سابق سپریم کورٹ جج کی زیرقیادت کمیٹی کے تقرر کے بعد ریاست کے کانگریس لیڈروں نے اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا۔ پنجاب کے رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو مل کر جو کام پہلے دن ہی کرنا تھا اسے سپریم کورٹ نے انجام دیا۔

ایک جج کی سرکردگی میں مشترکہ تحقیقات کا حکم جاری کیا جانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہی مطالبہ وہ کیے تھے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہم اس دور میں ہیں جس میں کوئی بھی مسئلہ سیاست سے آگے نہیں ہے۔ ریاست کے ایک اور کانگریس لیڈر جئے ویر شیر گل نے کہا کہ جسٹس اندو ملہوترا کی زیرقیادت وزیر اعظم کی سیکوریٹی میں کوتاہی کے لیے کمیٹی کی تشکیل ضروری تھی اور وہ اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

وزیر اعظم کی سیکوریٹی کی سنگین کوتاہی کے مسئلہ کو سیاسی موضوع بنانے سے گریز کرنے اور احتساب کرنے آزادانہ انکوائری ضروری ہے۔ اس مسئلہ پر کانگریس اور بی جے پی میں رسہ کشی جاری ہے اور وہ سیکوریٹی کوتاہی کے لیے ایک دوسرے پر الزام عائد کررہے ہیں۔

 چیف جسٹس این وی رمنا کی زیرقیادت سپریم کورٹ بنچ جس میں جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی شامل ہیں، نے کہا کہ کمیٹی، سیکوریٹی کوتاہی کے اسباب، ذمہ دار افراد اور مستقبل میں وزیر اعظم یا دیگر دستوری عہدوں پر فائز افراد کی سیکوریٹی میں کوتاہی کا انسداد کرنے کی تحقیقات کرے گی۔ بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے معاملات یکطرفہ انکوائری پر چھوڑے نہیں جاسکتے۔

 ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت نے اس معاملہ کی تحقیقات کے لیے اپنی اپنی کمیٹیوں کی تشکیل کی ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے مرکز اور پنجاب کی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے طور پر انکوائری میں پیشرفت نہ کریں۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.