پاکستان سے چین میں مغربی ٹیکنالوجی کی منتقلی تشویشناک: ائیر چیف

چودھری نے کہاکہ فضائیہ بیک وقت دو محاذوں پر کسی بھی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلے ہوئے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ملٹی ڈومین ایریا میں جنگ کرنے کی صلاحیت حاصل کریں۔

نئی دہلی: ایئر چیف مارشل وی آر چودھری نے منگل کو کہا کہ حقیقی کنٹرول لائن کے ساتھ چین کی ڈھانچہ جاتی اور فوجی تیاری سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ہاں اگر وہ پاکستان کو اہم ٹکنالوجی منتقل کرتا ہے تو یہ یقینی طور پر تشویش کی بات ہے۔

 ایئر چیف مارشل وی آر چودھری نے فضائیہ کے 89 ویں یوم تاسیس سے قبل آج سالانہ پریس کانفرنس میں سوالات کے جواب میں کہا کہ حقیقی کنٹرول لائن کے نزدیک چین کی بڑی تعداد میں فوج کی تعیناتی اور بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کے پیش نظر ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اور فضائیہ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا ہے اور وہ کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ چین پاکستان کو اہم فوجی ٹیکنالوجی منتقل نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ فضائیہ بیک وقت دو محاذوں پر کسی بھی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلے ہوئے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ملٹی ڈومین ایریا میں جنگ کرنے کی صلاحیت حاصل کریں۔

فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان گٹھ جوڑ اتنی تشویش کی بات نہیں ہے اور فضائیہ دونوں محاذ پر بیک وقت کسی بھی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن پاکستان سے چین میں مغربی ٹیکنالوجی کی منتقلی تشویشناک ہے۔

ایئر چیف مارشل نے کہا کہ چینی فضائیہ اب بھی لائن آف ایکچول کنٹرول کے قریب اپنے علاقہ میں تین فضائی اڈوں پر تعینات ہے ، لیکن یہ اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تیاریوں سے ہندوستانی فضائیہ کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ دہائی کے اختتام تک فضائیہ میں جنگی طیاروں کے سکواڈرن کی تعداد منظور شدہ 42 کے بجائے 35 تک پہنچ جائے گی۔

پاکستان اور چین کی افواج کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کے بارے میں پوچھے جانے پر ایئر چیف مارشل چودھری نے فضائیہ کے 89 ویں یوم تاسیس سے قبل سالانہ پریس کانفرنس میں کہا کہ کچھ ممالک کی افواج ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتی ہیں اور ان کے افسران بھی بات چیت کرتے ہیں۔ ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور بات کرتے ہیں ڈرنے کی کوئی بات نہیں لیکن مغربی ٹیکنالوجی کی پاکستان سے چین میں منتقلی تشویشناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ تبدیل شدہ حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ملٹی ڈومین ایریا میں جنگ کرنے کی صلاحیت حاصل کریں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طویل المنتظر S-400 دفاعی میزائل رواں برس کے آخر تک روس سے مل جائے گی۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.