پولیس ایک واقعہ کیلئے 5 ایف آئی آر درج نہیں کرسکتی

ہائی کورٹ نے ایک ایف آئی آر کو برقرار رکھتے ہوئے گزشتہ سال مارچ میں جعفرآباد پولیس اسٹیشن میں ایک ہی ملزم کے خلاف درج کی گئی دیگر 4 ایف آئی آر کو منسوخ کردیا۔

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ پولیس ایک ہی واقعہ کے لئے 5 ایف آئی آر درج نہیں کرسکتی اور شمال مشرقی دہلی میں گزشتہ سال ایک کمپاؤنڈ کو لوٹنے اور نذرآتش کرنے کے مبینہ جرائم کے سلسلہ میں درج کی گئی 4 ایف آئی آرس کو کالعدم کردیا۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ ایک ہی قابل دست اندازی جرم کے سلسلہ میں دوسری ایف آئی آر درج نہیں کی جاسکتی اور نہ تازہ تحقیقات کی جاسکتی ہیں۔ اس نے کہا کہ ایک ہی واقعہ کے ضمن میں 5 علیحدہ ایف آئی آر درج نہیں کی جاسکتی ہیں۔ یہ سپریم کورٹ کی جانب سے طئے کئے گئے قانون کے خلاف ہے۔

ہائی کورٹ نے ایک ایف آئی آر کو برقرار رکھتے ہوئے گزشتہ سال مارچ میں جعفرآباد پولیس اسٹیشن میں ایک ہی ملزم کے خلاف درج کی گئی دیگر 4 ایف آئی آر کو منسوخ کردیا۔ ان ایف آئی آرس کے نتیجہ میں شروع ہونے والی دیگر تمام کارروائیوں کو بھی منسوخ کردیا گیا۔

عدالت نے ملزم عاطر کی 4 درخواستوں کو قبول کرتے ہوئے یہ احکام صادر کئے۔ اس ملزم کے خلاف ایک ہی خاندان کے مختلف ارکان کی جانب سے کی گئی شکایات پر دہلی پولیس نے 5 ایف آئی ر درج کئے تھے۔

یہ لوگ 24 فروری کی شام جب موج پور علاقہ میں واقع اپنے مکان پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ گھر کو آگ لگادی گئی تھی جس کے نتیجہ میں 7 تا 10لاکھ روپے کا سامان جل کر خاکستر ہوگیا تھا۔

ایڈوکیٹ تارا نروملا نے عاطر کی پیروی کرتے ہوئے دلیل دی کہ تمام ایف آئی آر ایک ہی گھر سے متعلق ہیں اور مختلف ارکان خاندان نے درج کرائی ہیں حتیٰ کہ آگ بجھانے کے لئے بھی ایک ہی فائر انجن گھر پہنچا تھا۔

انہوں نے مزید استدلال کیا کہ ایک ہی جرم کے لئے مزید 4 ایف آئی آر درج نہیں کی جاسکتیں اور یہ راست طورپر سپریم کورٹ کے وضع کردہ قوانین کے مغائر ہے۔ دہلی پولیس نے دعویٰ کیا کہ جائیدادیں علیحدہ علیحدہ تھیں اور مکینوں کو انفرادی نقصان پہنچا ہے اور ہر ایف آئی ر کا موضوع دوسرے سے جداگانہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ تمام 5 ایف آئی آر اپنے مواد کے لحاظ سے مماثل ہیں اور کم و بیش ایک دوسرے کی نقل ہیں اور ایک ہی واقعہ سے متعلق ہیں۔

عدالت نے کہا کہ یہ تمام ایک ہی مکان سے متعلق ہیں جہاں شرانگیزی سے آگ لگائی گئی تھی اور فوری طورپر اسی عمارت کی دوسری منزلوں اور پڑوسیوں کے مکانات تک پھیل گئی تھی اور نوٹ کیا کہ درخواست گزار نے کہا ہے کہ یہ مکان اس کی آبائی جائیداد ہے جو ارکان خاندان کی آپسی رضامندی سے 4 حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ جن مقامات کو آگ لگائی گئی اور لوٹا گیا وہ سب ایک ہی کمپاؤنڈ کے اندرہیں اور ان کی احاطہ کی دیوار بھی ایک ہی ہے۔یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ شمال مشرقی دہلی میں گزشتہ سال 24 فروری کو شہریت قانون کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان تشدد کے بعد فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوئی تھیں جن کے نتیجہ میں کم ازکم 53 افراد ہلاک اور تقریباً 700 زخمی ہوگئے تھے۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.