چین سے متصل سرحد پر خطرات کم نہیں ہوئے: ایم ایم نروانے

فوجی سربراہ نے تاہم کہا کہ فوج جزوی طورپر پیچھے ہٹی ہے‘ خطرات کسی بھی طرح کم نہیں ہوئے ہیں۔ شمالی سرحدوں پر انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جامع طریقہ سے یہ کام جاری ہے۔

نئی دہلی: چیف آف آرمی اسٹاف(سی او اے ایس) جنرل منوج مکند نروانے نے چہارشنبہ کے دن کہا کہ جزوی طورپر فوج پیچھے ہٹی ہے لیکن چین سے متصل شمالی سرحد پر خطرہ کسی بھی طرح کم نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کی طرف سے فوج کی تعیناتی بڑھ گئی ہے۔

 فوج کی سالانہ کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم پی ایل اے (پیپلز لبریشن آرمی) سے سختی کے ساتھ لیکن پرامن طریقہ سے نمٹتے رہیں گے۔ فوجی سربراہ نے کہا کہ ملک کی شمالی اور مغربی سرحدوں پر گزشتہ ایک سال میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ شمالی سرحد پر ہندوستانی فوج پوری طرح جنگی حالت میں ہے۔

اسی کے ساتھ اس نے چین کی فوج کے ساتھ بات چیت جاری رکھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلسل مشترکہ کوششوں کی وجہ سے کئی مقامات سے افواج پیچھے ہٹی ہیں۔ کارپس کمانڈرس سطح کی 14 ویں دور کی بات چیت جاری ہے۔ امید ہے کہ آنے والے دنوں میں کچھ مثبت پیشرفت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ پٹرولنگ پوائنٹ 15 (ہاٹ اسپرنگ) مسئلہ حل ہوجائے گا۔

یہ مسئلہ حل ہوجائے تو ہم دیگر مسائل پر توجہ دیں گے۔ مثبت پیشرفت کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بات چیت عرصہ دراز سے جاری ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ بات چیت جاری ہے۔ ہمیں ایک دوسرے سے بات چیت کرتے رہنا چاہئے۔

چوتھے اور پانچویں دور کی بات چیت کے نتیجہ میں پٹرولنگ پوائنٹ 14 کا مسئلہ 9 ویں اور 10 ویں دور کی بات چیت میں شمالی اور جنوبی کنارا  اور کیلاش رینج کا مسئلہ حل ہوا۔  آخر میں پٹرولنگ پوائنٹ 17 مسئلہ کی بھی یکسوئی ہوئی۔

فوجی سربراہ نے تاہم کہا کہ فوج جزوی طورپر پیچھے ہٹی ہے‘ خطرات کسی بھی طرح کم نہیں ہوئے ہیں۔ شمالی سرحدوں پر انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جامع طریقہ سے یہ کام جاری ہے۔ سڑکیں اور سال بھر کھلی رہنے والی سرنگیں بنائی جارہی ہیں۔ دریائے برہم پتر پر زائد پل بھی بن رہے ہیں۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.