کانگریس اور ترنمول کا پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطہ میں احتجاج

کانگریس کے ارکان پارٹی صدر سونیا گاندھی کی قیادت میں متنازع زرعی قوانین کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھائے جمع ہوئے اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔

نئی دہلی: کانگریس اور ترنمول کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے پیر کو سرمائی اجلاس کے پہلے دن زرعی قوانین کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے الگ الگ مظاہرے کیے اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔

کانگریس کے ارکان پارٹی صدر سونیا گاندھی کی قیادت میں متنازع زرعی قوانین کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھائے جمع ہوئے اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔

کانگریس کے جن ارکان پارلیمنٹ نے محترمہ گاندھی کی قیادت میں مظاہرہ کیا ان میں پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی، راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری شامل تھے۔

کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ ہاؤس کی کارروائی شروع ہونے سے تقریباً آدھا گھنٹہ قبل پارلیمنٹ ہاؤس احاطے میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے سامنے جمع ہوئے اور انہوں نے ایک بڑا بینر اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا‘ہم سیاہ زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں ’اور مظاہرہ کیا۔

مظاہرین میں پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی اور راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے کئی ممبران شامل تھے۔ وہ حکومت مخالف نعرے لگا رہے تھے۔

کسانوں کو انصاف دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ جب تک کسانوں کے مفادات کا تحفظ نہیں کیا جاتا پارٹی خاموش نہیں بیٹھے گی۔زرعی قوانین پر اپوزیشن ارکان کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کردی گئی تو ترنمول کانگریس کے ارکان مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے گئے اور حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے احتجاج شروع کردیا۔

ان ارکان نے کہا کہ حکومت کسانوں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے اور ان کی پارٹی کسانوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دے گی۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.