کانگریس میں اب اُلٹے سیدھے فیصلے کئے جارہے ہیں: نٹور سنگھ

کانگریس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہو رہا ہے۔ نٹورسنگھ نے کہا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی ، جو پارٹی کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز ادارہ ہے ، بڑے مسائل پر فیصلے کرتی ہے ، لیکن اب اس ادارے کی میٹنگ نہیں بلائی جا رہی ہے۔

نئی دہلی: کانگریس قیادت پر سوال اٹھانے کا سلسلہ آج بھی جاری رہا اور پارٹی کے سینئر رہنما نٹور سنگھ نے کہا کہ اب کانگریس میں الٹے سیدھے فیصلے کیے جارہے ہیں۔

اس سے قبل چہارشنبہ کے دب سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر رہنما کپِل سبل نے قیادت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں صرف’جی حضوروں‘ کی سنی جا رہی ہے جس سے نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کانگریس قیادت کے فیصلوں کے بارے میں بولنا نہیں چھوڑیں گے۔ اسی طرح سینئر رہنما غلام نبی آزاد نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ بلانے کے مطالبہ کا اعادہ کرتے ہوئے پارٹی صدر سونیا گاندھی کو ایک خط لکھا ہے۔

کپل سبل اور غلامی نبی آزاد کے بعد نٹور سنگھ نے اب پارٹی کے فیصلہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کیپٹن امریندر سنگھ پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کانگریس کے وفادار رہے ہیں۔ وہ یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پارٹی کے اس قدآور لیڈر کو ہٹانے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں پنجاب کانگریس میں جو بھی پیش رفت ہوئی وہ غلط تھی اور کانگریس قیادت نے کیپٹن کو ہٹانے کا فیصلہ کیا، یہ بہت غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس ملک کی اہم سیاسی پارٹی ہے لیکن پارٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی ، جو پارٹی کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز ادارہ ہے ، بڑے مسائل پر فیصلے کرتی ہے ، لیکن اب اس ادارے کی میٹنگ نہیں بلائی جا رہی ہے۔

سنگھ نے کہا کہ سونیا گاندھی ، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کانگریس ہائی کمان ہیں ، لیکن یہاں جو فیصلے ہورہے ہیں ان سے ہائی کمان کی اہمیت کم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں سب کے ساتھ صلاح و مشورہ کے بعد فیصلے کیے جانے چاہیئیں اور ورکنگ کمیٹی کا اجلاس بلایا جانا چاہیے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.