کانگریس‘ ہندوتوا کی بحث میں نہ پڑے،راہول پر منیش تیواری کی تنقید

منیش تیواری نے کہا کہ ہندوازم بمقابلہ ہندوتوا بحث میں بعض کانگریسی ایک بنیادی نکتہ بھول جاتے ہیں۔ اگر میرا یہ ماننا ہو کہ میری مذہبی شناخت میری سیاست کی بنیاد بنے تو مجھے اکثریتی یا اقلیتی پارٹی میں ہونا چاہئے۔

نئی دہلی: کانگریس رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے چہارشنبہ کے دن راہول گاندھی کو نشانہ تنقید بنایا اور کہا کہ پارٹی قائد کو ہندوتوا کی بحث میں نہیں پڑنا چاہئے جو کانگریس کی کور آئیڈیالوجی سے کوسوں دور ہے۔ فون پر آئی اے این ایس سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ کانگریس کو فلسفیانہ طورپر اس بحث میں نہیں پڑنا چاہئے جو اس کی کور آئیڈیالوجی سے کوسوں دور ہے۔ منیش تیواری نے زور دے کر کہا کہ پارٹی کو اپنی کور آئیڈیالوجی سے جڑے رہنا چاہئے۔ اسے اس سے انحراف نہیں کرنا چاہئے کیونکہ پارٹی قائدین‘ بی جے پی کا توڑ کرنے سابق میں سافٹ ہندوتوا کی لائن اختیار کرنے کی کوشش کرچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لبرل ازم (آزاد خیالی) اور سیکولرازم میں یقین رکھنے والوں کو پارٹی میں رہنا چاہئے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ مذہب‘ سیاست کا حصہ ہو تو آپ کو دایاں بازو جماعتوں میں ہونا چاہئے‘ کانگریس میں نہیں جو سیکولرازم میں یقین رکھتی ہے۔ بعدازاں ایک ٹویٹ میں منیش تیواری نے کہا کہ ہندوازم بمقابلہ ہندوتوا بحث میں بعض کانگریسی ایک بنیادی نکتہ بھول جاتے ہیں۔ اگر میرا یہ ماننا ہو کہ میری مذہبی شناخت میری سیاست کی بنیاد بنے تو مجھے اکثریتی یا اقلیتی پارٹی میں ہونا چاہئے۔ میں کانگریس میں اس لئے ہوں کہ میں نہرو ماڈل پر وشواس(یقین) رکھتا ہوں کہ مذہب نجی (خانگی) معاملہ ہے۔ ہر کسی کو اپنی ذاتی زندگی میں مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہے۔

 پبلک ڈومین یا عوامی زندگی میں چرچ اینڈ اسٹیٹ (کلیسیا اور مملکت) سختی سے ایک دوسرے سے جدا ہوں علیحدہ ہوں۔ میں ہندو ہوں‘ میں اپنے بھگوان کی پوج کرتا ہوں لیکن یہ میری سیاست نہیں۔پوری بحث سلمان خورشید کی کتاب سے شروع ہوئی جس میں انہوں نے ہندوتوا کا آئی ایس آئی ایس/ داعش سے تقابل کیا۔ بعدازاں راہول گاندھی نے گزشتہ ہفتہ پارٹی کے ایک پروگرا م میں کہا تھا کہ ہندو مت اور ہندوتوا مختلف ہیں‘ ایک نہیں۔

 منیش تیواری نے یہ بھی کہا کہ ماننا پڑے گا کہ کانگریس کی آئیڈیالوجی پیچھے چلی گئی ہے۔ آج چاہے ہم پسند کریں یا نہ کریں آر ایس ایس اور بی جے پی کی تفرقہ پسند اور نفرت پھیلانے والی آئیڈیالوجی نے کانگریس کی محبت اور لگاؤ پیدا کرنے والی قوم پرستانہ آئیڈیالوجی پر غلبہ پالیا ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.