کرتارپور راہداری 17نومبر سے کھول دی جائے گی

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے آج یہاں ٹویٹ کرکے بتایا کہ حکومت نے سکھ یاتریوں کے وسیع تر فائدہ کے لیے 17 نومبر سے کرتار پور کوریڈور کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے گرو نانک دیو جی کے 552 ویں پرکاش اتسو سے پہلے کل سے پاکستان میں گردوارہ کرتار پور صاحب کے لیے کوریڈور کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے آج یہاں ٹویٹ کرکے بتایا کہ حکومت نے سکھ یاتریوں کے وسیع تر فائدہ کے لیے 17 نومبر سے کرتار پور کوریڈور کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی حکومت گرو نانک دیو جی کے تئیں بے پناہ عقیدت اور سکھ برادری سے بے پناہ محبت رکھتی ہے۔

امیت شاہ نے کہا کہ ملک 19 نومبر کو گرو نانک دیو کا یوم پیدائش منانے کے لیے تیار ہے اور کرتار پور کوریڈور کھولنے کے مودی حکومت کے فیصلے سے ملک میں خوشی بڑھے گی۔ گرو پرب کے موقع پر سکھ برادریوں کی جانب سے کرتار پور کوریڈور کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی پنجاب یونٹ کے رہنماؤں کے ایک وفد نے اتوار کو یہاں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے کرتار پور کوریڈور کھولنے کا مطالبہ کیاتھا۔ اس سے قبل بھی حکومت نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ گرو نانک دیو کے یوم پیدائش کے موقع پر 17 سے 26 نومبر کے درمیان تقریباً 1500 سکھ یاتریوں کا ایک گروپ پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 یہ گروپ پاکستان میں چھ مقدس گردواروں دربار صاحب، سری پنجہ صاحب، ڈیرہ صاحب، سری ننکانہ صاحب، سری کرتارپور صاحب اور گردوارہ سری سچا سوداکا دورہ کرے گا ۔ پاکستان نے چند روز قبل کرتار پور راہداری کھولنے کی پیشکش بھی کی تھی۔ حالانکہ حکومت پاکستان نے حکومت ہند کی درخواست پر اس سال جون میں سکھ یاتریوں کو دو مواقع گرو راجن دیو جی کے یوم قربانی اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی پر یاترا کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا ۔یہ دورے 1974 کے دو طرفہ پروٹوکول کے تحت ہونے تھے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.