کسانوں کا ریل روکو احتجاج کامیاب

پنجاب، ہریانہ، اترپردیش اور راجستھان میں ریل گاڑیوں کی آمدورفت درہم برہم ہوگئی۔ ناردرن ریلوے زون میں 150 مقامات متاثر ہوئے اور 60 ٹرینوں کی آمدورفت میں خلل پڑا۔ مسافرین کو اپنے سامان کے ساتھ کئی گھنٹے انتظار کرتے دیکھا گیا۔

نئی دہلی: لکھیم پور کھیری تشدد کے خلاف سمیکت کسان مورچہ کے 6 گھنٹوں کے ریل روکو احتجاج کے دوران کسانوں نے پیر کی صبح مختلف مقامات پر ریل پٹریوں پر دھرنا دیا۔

پنجاب، ہریانہ، اترپردیش اور راجستھان میں ریل گاڑیوں کی آمدورفت درہم برہم ہوگئی۔ ناردرن ریلوے زون میں 150 مقامات متاثر ہوئے اور 60 ٹرینوں کی آمدورفت میں خلل پڑا۔ مسافرین کو اپنے سامان کے ساتھ کئی گھنٹے انتظار کرتے دیکھا گیا۔

ناردرن ریلوے زون میں راجستھان اور ہریانہ میں 18 ٹرینیں منسوخ کردی گئیں۔ 10 ریل گاڑیوں کو جزوی طورپر منسوخ کیا گیا اور ایک کا رخ موڑدیاگیا۔ پنجاب کے لدھیانہ، امرتسر، جالندھر، موگہ، پٹیالہ، فیروز پور اور ہریانہ کے چرخی دادری، سونی پت، کروکشیتر، جند، کرنال اور حصار میں کسان احتجاج ہوا۔

اترپردیش کے مظفر نگر میں بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے ورکرس نے امرتسر۔ دہلی اور جالندھر ایکسپریس کو روک دیا۔ میرٹھ اور گریٹر نوئیڈا میں بھی احتجاجیوں نے ایسا ہی کیا۔ سمیکت کسان مورچہ نے کہا کہ مملکتی وزیر داخلہ اجئے مشرا کی برطرفی اور گرفتاری کے مطالبہ پر زور دینے کے لئے ہم نے آج صبح 10 بجے تا 4 بجے ملک گیر ریل روکو احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

متعلقہ

احتجاج کے مدنظر ریلوے اسٹیشنوں پر سیکوریٹی کڑی کردی گئی تھی۔ احتجاجی کسانوں بشمول عورتوں نے بی جے پی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ انہوں نے اجئے مشرا کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ احتجاجیوں کے ایک گروپ نے موگہ میں ایک ٹرین کے سامنے جئے جوان، جئے کسان کا بیانر لگایا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.