گرفتار مشتبہ دہشت گردوں سے مہاراشٹرا اے ٹی ایس کی پوچھ تاچھ

ملزمین آنے والے تہواری موسم میں حملوں کا مبینہ منصوبہ بنارہے تھے۔ ذرائع کے مطابق مہاراشٹرا اے ٹی ایس کی ٹیم نے قومی دارالحکومت پہنچنے کے بعد دہلی پولیس کے خصوصی سیل کے عہدیداروں سے بات چیت کی۔

نئی دہلی: مہاراشٹرا کے انسداد دہشت گردی دستہ (اے ٹی ایس) اور دہلی پولیس کا خصوصی سیل چھ مشتبہ دہشت گردوں سے مشترکہ طور پر پوچھ تاچھ کررہی ہے۔

ملزمین آنے والے تہواری موسم میں حملوں کا مبینہ منصوبہ بنارہے تھے۔ ذرائع کے مطابق مہاراشٹرا اے ٹی ایس کی ٹیم نے قومی دارالحکومت پہنچنے کے بعد دہلی پولیس کے خصوصی سیل کے عہدیداروں سے بات چیت کی۔

 فی الحال عہدیدار پاکستان میں مبینہ تربیت یافتہ اسامہ اور ڈی کمپنی کے مشتبہ کارکن جان محمد سے پوچھ تاچھ کررہے ہیں۔ اسے کولکتہ سے گرفتار کیا گیا جب وہ دہلی جارہا تھا۔

مہاراشٹرا اے ٹی ایس کے سربراہ ونیت اگروال نے چہارشنبہ کو کہا تھا کہ مشتبہ دہشت گرد جان محمد کا تعلق ممبئی کے دھاراوی سے ہے۔

عہدیدار وں کو اسامہ کے والد حمید الرحمن کی تلاش ہے جن پر دہشت گردی کے ماڈیول کے اصل سازشی ہونے کا شبہ ہے۔

الزام ہے کہ حمید نے الٰہ آباد کے متوطن اسامہ اور ذیشان قمر کو پاکستان میں تربیت حاصل کرنے عمان کے مسقط روانہ کیا۔ ان کے مسقط پہنچتے ہی پاکستان کی آئی ایس آئی انہیں بم سازی کی تربیت دینے سمندری راستوں سے گوادر بندرگاہ لے گئی۔

اسامہ اور ذیشان قمر کو صوبہ سندھ کے تھاٹا میں واقع ایک فارم ہاؤس میں بم اور آئی ای ڈیز بنانے اور روز مرہ استعمال کی اشیاء سے آتشزنی کی تربیت دی گئی۔

فارم ہاؤس میں تین پاکستانی شہری تھے۔ ان میں سے دو جبار اور حمزہ نے ان دونوں کو تربیت دی۔ دونوں کا تعلق پاکستانی فوج سے ہے اور انہوں نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں۔

یہ تربیت 15دنوں تک جاری رہی اور بعد ازاں انہیں اسی راستے سے مسقط لے جایا گیا۔

دریں اثناء ایک سینئر آئی پی ایس عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ گوادر بندرگاہ کے قریب جیونی نامی شہر میں پاکستان کی آئی ایس آئی نے جن 15 بنگلہ زبان بولنے والوں کو دو گرفتار کردہ مبینہ دہشت گردوں کے ساتھ بم سازی کی تربیت دی تھی،  مشتبہ طور پر ان کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔

 ابتداء میں خصوصی سیل کے عہدیداروں کو شبہ تھا کہ 15تا 16افراد کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے مگر گرفتار مشتبہ دہشت گردوں جامعہ نگر کے اسامہ اور الہ آباد کے ذیشان قمر سے پوچھ تاچھ کے بعد پتا چلا کہ ان کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔

خصوصی سیل نے 14ستمبر کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسامہ22/ اپریل کو لکھنو سے سلام ایر کی فلائٹ کے ذریعہ عمان کے مسقط روانہ ہوا تھا۔ اس نے ذیشان سے ملاقات کی جو خود بھی پاکستان میں تربیت حاصل کرنے ہندوستان سے آیا تھا۔  

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.