گڑگاؤں میں نماز کے دوران شرانگیزی۔ جئے شری رام کے نعرے

اس واقعہ سے نماز کی ادائیگی کے مسئلہ پر علاقہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اسی طرح سکٹر 47 میں سرکاری ملکیتی اراضی پر نماز کی ادائیگی پر احتجاج کیا گیا اور اسے روکنے کا یا گھروں کے اندر نماز پڑھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

نئی دہلی: گڑ گاؤں کے سکٹر12 اے میں ایک خانگی جائیداد پر پُرامن طریقہ سے نماز ادا کرنے والے مسلمانوں نے آج ایک ہجوم کا سامنا کیا۔ مقامی افراد کے مطابق اس میں بجرنگ دَل کے کارکن شامل تھے جو جئے شری رام کے نعرے لگارہے تھے۔

اس واقعہ سے نماز کی ادائیگی کے مسئلہ پر علاقہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اسی طرح سکٹر 47 میں سرکاری ملکیتی اراضی پر نماز کی ادائیگی پر احتجاج کیا گیا اور اسے روکنے کا یا گھروں کے اندر نماز پڑھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

آج جو تصاویر سامنے آئی ہیں اس میں مسلم طبقہ کی جانب سے نماز کی ادائیگی کے وقت ریاپڈایکشن فورس اور پولیس کو بھاری تعداد میں تعینات دیکھا گیا۔

ویڈیو میں دکھایا گیا کہ احتجاجی ہجوم کے پیچھے بعض دھاتی رکاوٹوں کے پاس حفاظت پر مامور درجنوں ملازمین پولیس ہجوم کو روک رہے تھے۔ احتجاجی جئے شری رام کے نعرے بلند کررہے تھے۔

نماز پڑھنے کو چیلنج کرنے والوں کو ایک مقامی وکیل کلبھوشن بھدواج بھی شامل تھے جنہوں نے جامعہ ملیہ کے شوٹر کی پیروی کی تھی جس کو مبینہ طور پر فرقہ وارانہ تقاریر کے لئے گڑگاؤں پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ پولیس کی جانب سے کچھ یقین دہانی کروانے کے بعد ہی احتجاجی ہجوم منتشر ہوا۔

نیوز ایجنسی آئی این اے کے مطابق دن بھر میں صرف ایک مرتبہ نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ مسئلہ کافی دن سے اٹھایا جاتا رہا ہے۔

چیف منسٹر ہریانہ ایم ایل کھٹر نے گذشتہ ہفتہ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر ایک کو نماز پڑھنے کا حق ہے لیکن نماز پڑھنے والوں کو چاہئے کہ سڑک بند نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مسئلہ کو خوشگوار طور پر حل کیا جانا چاہئے اور مقامی انتظامیہ اس سے بہتر طور پر نمٹ رہا ہے۔

تاحال مقامی افراد کے ساتھ بات چیت کے کئی دور ہوچکے ہیں لیکن کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکا۔ اے سی پی امان یادو نے گذشتہ ہفتہ اے این اے کو بتایا ”ہم ایک حل پر پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مقامی افراد نے ہمیں تین سال قبل جاری کردہ مقامات کی ایک فہرست دکھائی ہے ہمیں اس فہرست کی بھی تصدیق کرنا ہے۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.