ہائی کورٹس میں عنقریب بڑ ا ردوبدل

چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کی سربراہی میں سہ رکنی کالجیم نے مختلف ہائی کورٹس کے 4 چیف جسٹسوں کے تبادلہ کی سفارش کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ 27 ہائی کورٹ ججس کے تبادلہ کی بھی سفارش کا فیصلہ ہوا ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ کالجیم نے ملک کی مختلف ہائی کورٹس میں چیف جسٹس کے عہدہ پر تقررات کے لئے مرکز سے 8  ناموں کی سفارش کی ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کی سربراہی میں سہ رکنی کالجیم نے مختلف ہائی کورٹس کے 4 چیف جسٹسوں کے تبادلہ کی سفارش کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ 27 ہائی کورٹ ججس کے تبادلہ کی بھی سفارش کا فیصلہ ہوا ہے۔

 مستند ذرائع نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ہنگامی اجلاس کے بعد عدلیہ میں بڑے ردوبدل کے فیصلے ہوئے۔ ناموں کی تفصیل ابھی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اَپ لوڈ نہیں ہوئی ہے۔

کلکتہ ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس راجیش بندل کا تبادلہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کردیا جائے گا۔

جسٹس عقیل قریشی کا تبادلہ راجستھان ہائی کورٹ کیا جائے گا۔ ملک میں 25  ہائی کورٹس ہیں اور ان میں ججس کی منظورہ تعداد 1080 ہے۔ یکم مئی 2021 کو ہائی کورٹس صرف 420ججس کے ساتھ کام کررہی تھیں۔

 قبل ازیں 17  اگست کے تاریخی فیصلہ میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی کالجیم نے سپریم کورٹ ججس کی حیثیت سے ترقی دینے 9  ناموں کی سفارش کی تھی جن میں 3 خواتین شامل تھیں۔ مرکز نے ان ناموں کو جلد منظوری دے دی تھی اور 31  اگست کو نئے ججس نے حلف لے لیا تھا۔

چیف منسٹر رمنا نے بار کونسل آف انڈیا کی حالیہ تقریب میں کہا تھا کہ مزید ایک ماہ میں وہ توقع رکھتے ہیں کہ عدالتوں میں ججس کی 90 فیصد مخلوعہ جائیدادیں پر ہوجائیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس عقیل قریشی کے علاوہ کالجیم نے چیف جسٹس آندھراپردیش ہائی کورٹ اروپ کمار گوسوامی کا تبادلہ چھتیس گڑھ ہائی کورٹ اور چیف جسٹس مدھیہ پردیش ہائی کورٹ جسٹس محمد رفیق کا تبادلہ ہماچل پردیش ہائی کورٹ کرنے کی سفارش کی ہے۔

جسٹس پرکاش سریواستو‘ جسٹس پرشانت کمار مشرا‘ جسٹس رِتو رائے اوستھی‘ جسٹس ستیش چندر شرما‘ جسٹس رنجیت وی مورے‘ جسٹس اروند کمار اور جسٹس آر وی ملیمت مختلف ہائی کورٹس کے چیف جسٹس بنائے جائیں گے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.