ہندوتوا بحث سے پرینکا گاندھی کا اظہارلاتعلقی

پرینکا نے ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل نقصان پرقابوپانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس تنازعہ سے الگ تھلگ کرلیا کیونکہ وہ اترپردیش میں انتخابی مہم کی قیادت کررہی ہیں۔

نئی دہلی: پرینکا گاندھی وڈرا نے اپنے آپ کو ہندوازم بمقابلہ ہندوتوا بحث سے الگ کرلیا ہے اور کہا ہے کہ اس مسئلہ پر سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید کا نظریات ذاتی ہیں۔ انہوں نے اترپردیش اسمبلی انتخابات سے قبل اپنے آپ کو اس حساس بحث سے الگ کرلیا ہے۔ چتراکوٹ میں کمٹاناتھ مندر میں پوجا کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ اس  (ہندوتواکی) میرے لئے کوئی تشریح نہیں کرسکتا۔ یہ میرا عقیدہ ہے اور یہ میرا ذاتی خیال ہے۔ کانگریس کوہندوتوا کے مسئلہ پر پارٹی کے اندر ہی سخت مخالفت کا سامنا ہے۔

منیش تیواری نے چہارشنبہ کے روزکہاتھا کہ کانگریس کو ایسی کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہئیے۔ تیواری نے کہا تھاکہ کانگریس کو فلسفیانہ طور پر ایسی کسی بحث میں نہیں پڑناچاہئے جو اس کی بنیادی آئیڈیالوجی سے کوسوں دور ہے۔ اسے اپنی آئیڈیالوجی سے انحراف نہیں کرناچاہیے جیساکہ ماضی میں بی جے پی کا مقابلہ کرنے بعض پارٹی قائدین نے ’نرم ہندوتوا‘ کو اختیارکیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ’لبرل ازم اور سیکولرازم‘ میں ایقان رکھتے ہیں صرف انہیں پارٹی میں ہوناچاہیے ورنہ اگر آپ مذہب کو سیاست کا حصہ بناناچاہتے ہیں تو آپ کو کانگریس میں نہیں بلکہ دائیں بازو کی جماعتوں میں ہوناچاہئے۔

پرینکا نے ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل نقصان پرقابوپانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس تنازعہ سے الگ تھلگ کرلیا کیونکہ وہ اترپردیش میں انتخابی مہم کی قیادت کررہی ہیں۔ انہوں نے ریاست میں اب تک تمام اہم منادر کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے چہارشنبہ کے روز چترکوٹ میں کمٹاٹاتھ مندر کا دورہ کیا اور رام چاٹ پر خواتین کے ساتھ بات چیت بھی کی۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.