ہندوستانی شہریوں کو پاکستانی زمین الاٹ کرنا سنگین قانونی غلطی

1964 میں محکمہ مال کے عہدیداروں نے اسے منسوخ کردیا تھا۔ لگ بھگ 45 برس بعد عبدالرحمن اور دیگر نے لاہور کی ایک عدالت میں یہ دعویٰ کیا کہ وہ 2002 میں فوت محمد عمر کے قانونی وارث ہیں۔

نئی دہلی: ایک عجیب و غریب کیس میں جسے لاہور ہائی کورٹ نے ”سنگین قانونی غلطی“ قراردیا‘ لاہور کے ایک سیول جج نے پاکستانی اراضی بعض ہندوستانی شہریوں کو الاٹ کردی۔

الاٹیز نے جج کے سامنے اپنے ہندوستانی ہونے کے تمام کاغذات رکھے تھے۔ حکام نے الاٹمنٹ فوری منسوخ کردیا۔

لاہور کے موضع ملکو میں 1947 میں ہندوستان کوچ کرجانے والوں کی اراضی تھی۔یہ موضع اب لاہور کنٹونمنٹ کاعلاقہ ہے۔

23 کنال اور 9مرلہ زمین جگو میو کے لڑکے محمد عمر کو 1954 یا 1963 میں الاٹ ہوئی تھی۔ جو موضع امراء (فیروزپور جھرکہ‘ ہریانہ انڈیا) کا رہنے والا تھا۔

1964 میں محکمہ مال کے عہدیداروں نے اسے منسوخ کردیا تھا۔ لگ بھگ 45 برس بعد عبدالرحمن اور دیگر نے لاہور کی ایک عدالت میں یہ دعویٰ کیا کہ وہ 2002 میں فوت محمد عمر کے قانونی وارث ہیں۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.