بی جے پی میں شمولیت پر پدم شری کا لالچ، ترنمول رکن اسمبلی کا دعویٰ

اپنے فیس بک پوسٹس سے ترنمول کانگریس کے لئے بھی پریشانی کھڑی کردینے والے منورنجن بیاپاری نے اس مرتبہ پوسٹ کرتے ہوئے بی جے پی پر لالچ دینے کا الزام لگایا ہے۔

کلکتہ: ترنمول کانگریس کے رکن اسمبلی اور بنگلہ دلت ادیب منورنجن بیاپاری نے آج دعویٰ کیا ہے کہ اس سال مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل ناگپور سے ایک فون آیا تھا جس میں مجھے بی جے پی میں شامل ہونے پر پدم شری کا ایوارڈ دینے کی پیش کش کی گئی تھی ۔

اپنے فیس بک پوسٹس سے ترنمول کانگریس کے لئے بھی پریشانی کھڑی کردینے والے منورنجن بیاپاری نے اس مرتبہ پوسٹ کرتے ہوئے بی جے پی پر لالچ دینے کا الزام لگایا ہے۔

انہوں نے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ناگپور سے بسواس بابو کا فون آیا تھا اورانہوں نے کہا تھا کہ آپ نے بنگلہ ادب میں بہت ہی کام کئے ہیں اور ایوارڈ بھی ملے ہیں مگر قومی سطح پر پذیرائی نہیں ہوئی ہے حالانکہ آپ مرکزی حکومت کے ایوارڈ کے مستحق ہیں ۔ اگر آپ بی جے پی میں شامل ہوتے ہیں تو میں آپ کو پدم شری دلا سکتا ہوں۔

 منورنجن بیوپارتی نے لکھا ہے کہ انہوں نے اس لالچ کو مسترد کردیا۔ گنگنا رناوت کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب اس طرح کے لوگوں کو مرکزی حکومت کے ایوارڈ ملتے ہیں تو اچھا ہی ہے کہ انہوں نے ایوارڈ کےلئے بی جے پی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔

بالاگڑھ سے ترنمول کانگریس کےممبر اسمبلی منورنجن بیاپاری کی زندگی جدوجہد سے بھر پور ہے۔ ان کا خاندان بنگلہ دیش سے ہجرت کرکے یہاں آیا اور انہیں بنگال میں زندگی گزارنے کے لئے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کبھی رکشہ چلانا پڑا تو کبھی چائے بیچنا پڑا۔

بنگال اسمبلی انتخابات کے موقع پر ممتا بنرجی نے انہیں بالاگڑھ سے ٹکٹ دیا اور انہوں نے رکشہ کے ذریعہ مہم چلاکر لوگوں کی توجہ مبذول کرائی ۔

ممبراسمبلی منتخب ہونے کے بعد وہ ٹوٹو گاڑی خرید کر اپنے حلقہ انتخاب کا دورہ کرتے ہیں۔ ان کی سادہ زندگی کی وجہ سے لوگ انہیں پسند کرتے ہیں اور وہ بے باکی کے ساتھ اپنی بات رکھتے ہیں۔ اس مرتبہ انہوں نے بی جے پی پر سنگین الزام لگایا ہے۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.