سکھوں کو زبردستی عیسائی بنانے کا الزام : اکال تخت جتھیدار

جتھیدار نے الزام عائد کیا کہ عیسائی مشنریوں کی جانب سے پنجاب کی سرحدی پٹی پر سکھ خاندانوں اور درج فہرست سکھوں کا زبردستی مذہب تبدیل کرانے کیلئے بڑے پیمانہ پر پروگراموں کو چلایا جارہا ہے۔

امرتسر: اکال تخت کے جتھیدار گیانی ہرپریت سنگھ نے عیسائی مشنریوں پر سرحدی مواضعات میں سکھ خاندانوں کے جبری طور پر تبدیلی مذہب کے لئے پروگرامس چلانے کا الزام عائد کیا۔ یہ وہ الزام ہے جس کی امرتسر کے بشپ آف ڈیوسیز نے سختی کے ساتھ تردید کی ہے۔

جتھیدار نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ سکھ طبقہ کے کئی ارکان کو تبدیلی مذہب کے لئے پیسہ کا لالچ دیا جارہا ہے۔ اکال تخت کے جتھیدار نے الزام عائد کیا ”عیسائی مشنریوں کی جانب سے پنجاب کی سرحدی پٹی پر سکھ خاندانوں اور درج فہرست سکھوں کا زبردستی مذہب تبدیل کرانے کیلئے بڑے پیمانہ پر پروگراموں کو چلایا جارہا ہے۔

مشنریوں کی جانب سے سرحدی پٹی کے سکھ خاندانوں کو عیسائیت اختیار کرنے پر مجبور کرنے کی خاطر پیسہ کا استعمال کیا جارہا ہے اور دوسرے تمام امکانی طریقوں سے استفادہ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا ”معصوم و بھولے بھالے کسانوں کو ان کا دھرم تبدیل کراتے ہوئے عیسائی بنانے کیلئے یہ جو پروگرام چلائے جارہے ہیں وہ سکھ طبقہ کے اندرونی معاملات میں راست حملہ ہیں اور اس کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ جب رابطہ قائم کیا گیا امرتسر کے بشپ آف ڈیوسز چرچ آف نارتھ انڈیا پردیپ کمار سمنتارائے نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا ”یہ بالکل غلط اور بے بنیاد الزامات ہیں۔ عیسائی جبری طور پر مذہب تبدیل کرانے پر یقین نہیں رکھتے ہیں کیونکہ یہ وعیسائیت کے اصول کے برخلاف ہیں۔ ہم پر تنقیدیں کی جاسکتی ہیں مگر میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ حقائق کے ساتھ آگے آئیں اور زبردستی تبدیلی مذہب کی کوئی ایک مثال ہی پیش کریں“۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.