سی اے اے فوری رد کردیا جائے

جمعیت کے صدر مولانا ارشد مدنی نے 3 زرعی قوانین واپس لینے کے اعلان کا خیرمقدم کیا اور کسانوں کی جیت کی ستائش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سی اے اے کے خلاف احتجاج نے کسانوں کو زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کا حوصلہ دیا۔

لکھنؤ: کئی مسلم تنظیموں اور سیول سوسائٹی کے ارکان نے اب حکومت سے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) رد کردینے کی گزارش کی ہے۔

بی ایس پی رکن پارلیمنٹ حلقہ امروہہ کنور دانش علی نے مزید کسی تاخیر کے بغیر سی اے اے رد کردینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ 3 زرعی قوانین واپس لینا خوش آئند اقدام ہے۔ میں کسانوں کو ان کے عزم و حوصلہ‘ قربانی اور مملکت کی بڑی طاقت اور کرونی سرمایہ دار دوستوں کو شکست دینے پر مبارکباد دیتا ہوں۔ وزیراعظم مودی کو بناتاخیر سی اے اے رد کردینے پر بھی غور کرنا ہوگا۔

جمعیت کے صدر مولانا ارشد مدنی نے 3 زرعی قوانین واپس لینے کے اعلان کا خیرمقدم کیا اور کسانوں کی جیت کی ستائش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سی اے اے کے خلاف احتجاج نے کسانوں کو زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کا حوصلہ دیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ زرعی قوانین کی طرح سی اے اے بھی واپس لے لینا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ زرعی قوانین واپس لینے کے فیصلہ نے بتادیا کہ جمہوریت اور عوام کی طاقت مقدم ہے۔ مولانا مدنی نے الزام عائد کیا کہ کسانوں کی تحریک دبانے کی ساری کوششیں کی گئیں جیسا کہ ملک میں دیگر احتجاج کو دبانے کے لئے کیا گیا۔

دارالعلوم دیوبند کے ترجمان مولانا سفیان نظامی نے کہاکہ زرعی قوانین کی طرح حکومت کو سماج میں ہم آہنگی اور امن کے لئے سی اے اے واپس لے لینا چاہئے۔ سماجی کارکن ایس آر دارا پوری نے بھی کہاکہ سی اے اے ردکرنے کا وقت آگیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ عوام کے احساسات کا احترام کرنا چاہئے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اور جہد کار نے جس نے مخالف سی اے اے احتجاج میں حصہ لیاتھا کہاکہ ہم خیال لوگ اپنا احتجاج پھر شروع کرنے پر غور کررہے ہیں جو انہوں نے کورونا وباء کے دوران روک دیاتھا۔ کسانوں نے راستہ دکھایا ہے۔

ان کا دیرپا احتجاج حکومت کو زرعی قوانین منسوخ کرنے پر مجبور کرسکتا ہے‘ ہم کیوں ایسا نہیں کرسکتے۔سی اے اے کا اعلامیہ 12 دسمبر 2019 کو جاری ہوا تھا اور یہ 10 جنوری 2020 سے لاگو ہوا تھا۔ پارلیمنٹ میں سی اے اے کی منظوری کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانہ پر احتجاج ہوا تھا۔

سی اے اے کا مقصد پاکستان‘ بنگلہ دیش اور افغانستان میں معتوب اقلیتوں جیسے ہندوؤں‘ سکھوں‘ جین‘ بدھسٹ‘ پارسی اور عیسائیوں کو ہندوستان کی شہرت دینا ہے۔ اس میں مسلمانوں کا کوئی ذکر نہیں۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.